چاقوزنی واقعات میں تشویشناک اضافہ امسال 16حملوں میں بیشترکمسن لڑکے ملوث پائے گئے

بلال فرقانی

سرینگر// چاقوزنی کے واقعات میں اضافہ اور انتظامیہ کی جانب سے تیز دھار والے ہتھیاروں کی خریداری اور اس سے لیس ہونے پر پابندی کے باوجود امسال قریب16 واقعات پیش آئے۔ امسال چھرازنی کے گراف میں تشویشناک اضافے کے نتیجے میں صورتحال بھی تشویش ناک ہوگئی ہے،تاہم سرینگر میں ضلع مجسٹریٹ نے تیز دھار والے ہتھیاروں کے ساتھ چلنے اور ان کے خریدنے پر پابندی عائد کی۔ ہفتہ کو سرینگر کے چنار باغ میں ایک کمسن پر چاقو سے حملہ کیا گیا جس دوران اس کی موت واقع ہوئی۔حملہ آوار کمسن لڑکے کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ وسطی ضلع، بڈگام گوہر پورہ چاڈورہ گاؤں میں9 مارچ کو قیصر یوسف زرگر کو عابد حسین ڈار نے چاقو کے وار سے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔عابد نے چاقو واقعے سے ایک دن پہلے حاصل کیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جانتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ متاثرہ اور ملزم دونوں کوآپریٹو سوسائٹیز لمیٹڈ کے ملازم تھے۔ اس گھناؤنے فعل کو انجام دینے کے بعد ملزم پولیس اسٹیشن بڈگام گیا اور اپنے جرم کا اعتراف کیا۔2مئی کو پولیس نے ایک خاتون کو گرفتار کیا جس کی شناخت آصفہ بشیر کے نام سے کی گئی تھی، جس نے اپنے منگیتر عادل احمد پر سرینگر کے کاکہ سراے علاقے میں چاقو سے وار کیا۔جنوبی کشمیر میں 3 مئی کو، ایک نوجوان عادل احمد بٹ ساکن مرہامہ، بجبہاڑہ چاقو کے وار کے بعد زخموں سے بچ گیا۔

 

 

 

عادل کے سینے میں چوٹیں آئیں۔مٹن اننت ناگ کے علاقے اکڈمیں نامعلوم افراد نے 10 مئی کو سمیر احمد ماگرے ولد عبدالرشید ماگرے پر چاقوں سے حملہ کیا۔اسی دن قریبی کرانگسو گاؤں میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے میں متاثرہ شخص کی شناخت 16 سالہ عدنان الطاف کے نام سے ہوئی ، جو کرنگسو میں اپنے ماموں کے گھر تھا۔یکم مئی کوڈریم لینڈ اسکول بیہامہ گاندربل کے دو گروپوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی، جس میں وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع میں زاہد شبیر نامی ایک طالب علم نے دو ساتھی طالب علموں پر تیز دھار چیز/ چاقو سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ دونوں زخمی ہوگئے۔ زخمی طلباء کی شناخت ہدایت احمد اور ابراہیم احمد کے نام سے ہوئی ، جنہیں فوری طور پر علاج کے لیے صورہ اسپتال منتقل کیا گیا۔13 مئی کو گلشن آبادبارہمولہ میں چاقو زنی کا واقعہ پیش آیا۔ نو عمر لڑکے کی شناخت 18 سالہ محسن احمد ولد طارق احمد کے نام سے ہوئی ، اسے ہسپتال لے جا کر بچا لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ تین افراد نے کیا، اور ان تمام کو گرفتار کر لیا گیا۔سوپور کے محلہ تیلیاں میں ایک بارہ سالہ لڑکا اپنے دوست کے وار سے زخمی ہو گیا۔ واقعہ سے پہلے ان کے درمیان جھگڑا ہوا ۔ لڑکے کو بچا لیا گیا کیونکہ اسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا تھا۔30مئی کو سرینگر میں بٹہ مالو کے مومن آباد کے رہائشی اس وقت ششدر رہ گئے جب اعجاز احمد بٹ کے بہیمانہ قتل کی خبر علاقے میں پھیل گئی۔ اسے متعدد بار چاقوسے وار کیا گیا تھا۔ وہ ہسپتال میں زندہ نہ جا سکا اور ہسپتال پہنچنے پر اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ملزم ارتکاب جرم کے بعد موقع سے فرار ہوگیا۔ تاہم، پولیس نے 16برس کے اس نوجوان کو گرفتار کر لیا اور چاقو کے ساتھ اس کی خون سے بھیگی قمیض اور پتلون برآمد کر لی۔ جنوبی سری نگر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گورو سیکروار کے مطابق، ملزم نے پانچ ماہ قبل ایک چاقو خریدا تھا اور وہ جرم کو انجام دینے کے لیے صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا۔تازہ واقعے میں سرینگر کے نوہٹہ علاقے میں30جون کو ایک نوجوان کو چھری مار کر زخمی کیاگیا،مذکورہ نوجوان کو اسپتال پہنچایا گیا جہاں اس کا علاج شروع کیا گیا۔ پولیس نے کیس زیر نمبر27/2023درج کیا اور زبیر احمد بٹ نامی ایک نوجوان کی گرفتاری عمل میں لائی۔15 جولائی کو سونہ وار سے تعلق رکھنے والے17سالہ نوجوان حسیب بٹ پر چاقو سے حملہ کیا گیا۔پولیس نے بعد میں راجباغ اور سونہ وار سے تعلق رکھنے والے دو حملہ آواروں کو گرفتار کیا۔19جولائی کو گاندربل کے ناگہ بل علاقے میں ایک نوجوان پر چاقو سے حملے کی پاداش میں قیصر احمد کو گرفتار کیا گیا۔24 جولائی کو سرینگر کے نمائش گاہ کے قریب2نوجوانوں پر چاقو سے حملہ کیا گیا جس کے بعد حماد خان،بازل خان اور ماجد خان ساکنان سرائے بالا نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔7اگست کو پائین شہر کے گوجوراہ علاقے میں جائیداد پر تنازعہ کے دوران ایک بھائی نے دوسرے بھائی بلال احمد گیلانی پر چاقو سے حملہ کیا.۔ پولیس نے9 اگست کو سونہ وار علاقے سے ایک شخص کو اپنے ہی فرزند کو چھرا گھونپنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ ملزم کی شناخت محمود احمد کے بطور ہوئی۔