چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات

 جموں//گذشتہ مارچ ۔اپریل کے مہینوں میں ریاستی پولیس میں آئی پی ایس آفیسربسنت رتھ کوآئی جی ٹریفک کے عہدے پرفائزکیاگیاتھااورچارج سنبھالتے ہی بسنت رتھ نے ٹریفک نظام کوبہتربنانے کیلئے مختلف اقدامات اٹھائے تھے جس کی وجہ سے ہرطرف بسنت رتھ کے ہی چرچے تھے لیکن اپریل کے آخرتک جموں میں ہونے کے سبب جموں میں ٹریفک نظام میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی اوراس کے بعدجیسے ہی بسنت رتھ جموں سے غائب ہوئے توپھرسے ٹریفک نظام آہستہ آہستہ بدحالی کی جانب گامزن ہونے لگا،یایوں کہاجائے کہ چاردن کی چاندنی پھراندھیری رات توبہترہوگا،کیونکہ اب دوبارہ بسنت رتھ جموں میں واردہوچکے ہیں اورہرطر ف ٹریفک قوانین کے نفاذ کیلئے ٹریفک پولیس سرگرم نظرآرہی ہے اوریہ سمجھاجارہاہے کہ کہیں پھرسے بسنت رتھ جموں سے باہرجائیں توٹریفک کاوہی پرانابوسیدہ اورکرپٹ نظام پھرسے اپناڈیرہ نہ جمالے ۔تفصیلات کے مطابق جموں میں جب سے آئی جی ٹریفک بسنت رتھ آئے تھے تب سے ٹریفک نظام میں بہت ہی بہتری آئی تھی لیکن اب پھر سے جموں کے لوگ ٹریفک نظام سے پریشان ہیں خاص کر میٹاڈور ڈرائیوروں  سے کیونکہ جموں میں پھرسے میٹاڈور ڈرائیورمن مانیاں کرناشروع ہوگئے ہیں ۔اس سے پریشان لوگ جو کہ صرف کچھ دیر کے لئے ان گاڑیوں میں بیٹھتے ہیں اور اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ان لوگوں میں بہت قسم کے لوگ ہوتے ہیں کسی کو کہیں اور کسی کو کہیں جانا ہوتا ہے۔سب اپنی اپنی پریشانیوں میں اُلجھے ہوتے ہیں اور آج کل ایسا کون سا انسان ہے کہ جس کو کوئی ٹینشن نہیں ہوتی۔کسی کوانٹرویو کے لئے جانا ہے تو وہ میٹاڈور میں آکر بیٹھتا ہے اب اسکے کپڑے انٹرویو میں پہنچنے سے پہلے ہی گندے ہو جاتے ہیں۔ایک طرف ہمارے دیش کے پردھان منتری جنہوں نے سب کا ساتھ اور سب کا وکاس کا نعرہ لگایا ہوا ہے تووہیں دوسری طرف کچھ لوگ جو اس نعرے کامذاق بنارہے ہیں ۔اس کاسبب یہ ہے کہ گاڑیوں میں صفائی بھی نہیں ہوتی ہے ۔ہر ایک سٹاپ پر کافی دیر تک گاڑی کو روکا جاتا ہے اور سواریوں کو کافی دیر تک انتظار کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام بھی لگ جاتا ہے۔گاڑی کے پیچھے گاڑی اور پھر اسکے پیچھے گاڑی کھڑی ہوگی تو ٹریفک تو جام ہوگا ہی ۔ڈرائیور کافی دیر تک ہر ایک جگہ گاڑی کو روکتا ہے اور سواریاں بھرتا رہتا ہے چاہے وہ گاڑی خالی ہو یا بھری ہوئی۔میٹاڈور ڈرائیوروں کواس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ،چاہے کسی کو کتنی ہی دیر ہو جائے۔بعض دفعہ کسی بزرگ جس کی عمر60یا پھر70سال ہے اسے بیٹھنے کے لئے سیٹ  بھی نہیں ملتی ہے پھر بھی ڈرائیور نے گاڑی کو کھڑا رکھا ہوا ہے اور سواریاں بھرنے کا انتظار کر رہا ہے۔عورتیں جن کے پاس گود میںچھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں اور وہ کھڑی ہوتی ہیں انہیں بھی بیٹھنے کے لئے سیٹ نہیں ملتی ہے پھر بھی ڈرائیور گاڑی کو کھڑا رکھنا سواریاں بھرنے کا انتظار کرتا ہے۔کسی کو ہسپتال جانا ہے یا پھر کسی کو کام پر جانا ہے ان لوگوں کو کام پر پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہوتی ہے لیکن انہیں کوئی بھی فرق نہیں پڑتا ہے۔جموں میں میٹاڈورڈرائیوروں کی من مانیوں سے عام آدمی پریشان ہے ،وہ یہ سوچتاہے کہ آخرڈرائیوروں کی من مانیوں کاکیا،کیاجائے۔جب اس کے بعد وہ گاڑی کو چلاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ کسی دوڑ(ریس )کے میدان میں گاڑی کو بھگا رہے ہیں اور ان گاڑیوں میں زور دار گانے لگائے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں دین دنیا کی کوئی خبر نہیں رہتی ،کوئی ہارن بھی مارے تو پتہ نہیں چلتا۔اب ہر سگنل یا سٹاپ پر بسنت رتھ بھی تو موجود نہیں رہ سکتے۔اس میں کئی بار سواریوں سے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کی کہا سنی بھی ہوجاتی ہے اور کافی بار ان سے زدو و کوب بھی ہوجاتا ہیں۔انہیں سمجھانے والا کوئی نہیں۔کچھ میٹاڈور ڈرائیور تیز رفتار ی سے گاڑی کو چلاتے ہیںاور سگنل بھی توڑ تے ہیں۔جب سگنل توڑنا ہی ہے تو پھر سرکار کا اسے لگانے کا کیا مقصد رہ گیا ہے؟۔ آخر کار سگنل بنے کس لئے ہیں۔کبھی کبھی تو اتنی بدتمیزی کر گذرتے ہیں کہ سامنے والا شرمندہہو جاتا ہے ۔اوورلوڈنگ  کے بارے میں کہیں تو کیا کہیں سوچتے ہیں کہ آدمی کے اوپر آدمی چڑھا دیا جائے۔گاڑی کے دروازے جو کہ بسنت رتھ کے آنے پر بند ہو گئے ہیں صرف سگنل آنے پر ہی بند کئے جاتے ہیں باقی راستے اس پر پبلک لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور پبلک نہ ہو تو یہ پھر بھی کھلے رہتے ہیں۔اب ایسے ماحول میں اگر کوئی ہادثہ ہو جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔دریں اثناجموں وکرم چوک میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بست رتھ نے کہا کہ پچھلے کچھ مہینے پہلے جو میرے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا تھا اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔یہ آزاد ملک ہے یہاں کسی کو بھی مظاہرہ کرنے کا حق ہے ۔نئی پیڑی کو میں 3باتیںکہنا چاہوں گا کہ آپ اپنی زندگی کی عزت کرواور میں جو آپ کو ہیلمٹ پہننے کے لئے بولتا ہوں یہ اس لئے کہ آپ کی زندگی سلامت رہے آپ کی زندگی بہت نازک ہے اور ہیلمٹ کے بنا جب آپ گاڑی چلاتے ہو تو اپنے ماں باپ کے بارے میں سوچو۔انہوں نے نئی نسل کیلئے کہا کہ ٹیلی ویژن،انٹرنیٹ،سمارٹ فون اور ویڈیو گیمز سے دور رہیںپڑھائی کریں،کیونکہ  ہندوستان کا فیوچر آپ لوگوں پرمنحصر۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مجھے جوتشویش ملی ہے وہ میں سوچ بھی نہیں سکتاتھا۔اگر میں ہر آدمی سے میٹھی میٹھی بات کروں گا اور اس نظریہ سے کام کرنے کا کوئی نتیجہ نہیں ملے گا تو پھر بات نہیں بنے گی تو کوئی بھی میری بات نہیں سنے گااور مجھے میری امیج کو بچانا ہے۔میرے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ لوگوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ اگر میںکھڑا ہوں تو کام بھی کررہا ہوں وہیں پر اور میں کام کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میری ٹیم بہت اچھی ہے اور بہت اچھا کام کر رہی ہے کچھ وقت لگے گا جموں کا ٹریفک نظام اچھا ہونے میں وہ ضرور ہوگا۔