پی ڈی پی کی حصولیابیاں

 سرینگر//نیشنل کانفرنس کارگذار صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ پی ڈی پی ہر اُس وعدے سے منحرف ہوگئی جو اس کے لیڈران نے الیکشن سے قبل اور بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرنے کے وقت عوام سے کئے تھے، اقتدار میں آتے ہی پی ڈی پی ایک ظالم اور جابر حکمران پارٹی ثابت ہوئی اور اس نے لوگوں پر ظلم و جبر اور دہشت کے تمام ریکارڈ مات کئے۔ بیروہ میں المناگ پوشکر، سوگن، پنزیارا،نصیرپورہ اور کئی علاقوں میں چنائوی مہم کے دوران چنائوی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ 2016میں کشمیری قوم نے جو کچھ دیکھا اور سہا اُس کی مثال ماضی میں کہیں نہیںملتی۔ 2016میں جتنے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جتنے زخمی اور جتنے نابینا اور جتنے گرفتار ہوئے، محبوبہ مفتی نے اس سب کی ذمہ دار لینے کے بجائے براہ راست عوام کو ہی اس کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی بھاجپا حکومت کے غلط فیصلوں اور غیر دانشمندانہ اقدامات سے ایسی فضاء قائم ہوئی ہے کہ آج بھی یہاں غیریقینت چھائی ہوئی ہے۔ لوگ عدم تحفظ کے شکار ہیں، اقتصادی بدحالی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے، گرفتاریوں اور چھاپہ مار کارروائیوں سے خوف و دہشت کا ماحول آج بھی برپا کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی انتخابات میں اپنی پارٹی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ اس لئے بیروہ کے عوام کو ہوشیار رہ کر ایسی بھی سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بیروہ کے عوام کے ساتھ الیکشن سے قبل جو وعدے کئے، لوگوں نے مجھے انہیں پورا کرنے کا منڈیٹ دیا اور میں نے عوام سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے پہلے سے ہی کام شروع کیا۔ بیروہ کے لوگوں نے جو اعتماد میں مجھ میں دیکھایا میں نے اُس پر کھرا اُترنے کی حد درجہ کوشش کی۔ پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی بھاجپا حکمرانی کے اڑھائی سال میں لوگوں کو نہ صرف انتظامی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ امن و قانون کی صورتحال کے نام پر بے تحاشہ مظالم کے پہاڑ جھیلے۔  انہوں نے کہا کہ ریاست کی بدترین سیاسی، سیکورٹی اور انتظامی صورتحال کے علاوہ سڑکوں کی بدحالی، بجلی سپلائی کی بدترین پوزیشن ، وادی میں بے چینی کے منڈلاتے بادل ،لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس، 5ہزار پیلٹ گن اور 7لاکھ ایمونیشن کی درآمد پی ڈی پی حکومت کی حصولیابیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں نے آنے والے انتخابات میں پی ڈی پی کو کشمیریوں کے دشمنوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کی پاداش میں سبق نہیں سکھا یا تو کسی المیہ سے کم نہیں ہوگا۔