پی ڈی پی ورکر ہلاک

ڈورو+شوپیان//دیالگام اننت ناگ میں مشتبہ جنگجوئوں نے پی ڈی پی کے ایک ورکر کو دن دھاڑے گولیاں مار ر ہلاک کردیا جبکہ شوپیان ضلع میں سنیچر کی صبح فورسز نے قریب9 دیہات کی بیک وقت ناکہ بندی کر کے گھر گھر تلاشی کارروائی عمل میں لائی۔تاہم علاقے میں جنگجو موجود نہیں تھے۔سنیچر کی سہ پہر مشتبہ جنگجو اگجن دیالگام میں اسحاق احمد پرے ولد عبدالغنی کے گھر میں داخل ہوئے اور اس پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ بیٹھا۔اسکی عمر قریب50برس کی تھی اور وہ پی ڈی پی کا ایک سرگرم ورکر تھا۔حالیہ ایام میں یہ کسی سیاسی جماعت کے رکن کی پہلی ہلاکت ہے۔ اس سے قبل پارلیمانی انتخابات کے دوران جنوبی کشمیر میں کئی افراد کو ہلاک کیا گیا تھا جن میں ایک ایڈو کیٹ اور پی ڈی پی ضلع صدر پلوامہ شامل ہیں۔دریں اثناء سنیچر کی صبح7بجے62آر آر،سی آر پی ایف 14بٹالین اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے شوپیان کاپرن روڑ پر واقع چکورہ،مانتری گام،زئی پورہ، پرتاب پورہ، رتنی پورہ،ٹکی پورہ، رانی پورہ،دانگام اور وانگام نامی دیہات کا محاصرہ کیا اور تلاشی کارروائی شروع کی۔ پولیس کو اس بات کی اطلاع ملی تھی کہ ان دیہات میں ممکنہ طور پر جنگجو موجود ہوسکتے ہیں۔تاہم 6گھنٹوں تک آپریشن کے دوران جنگجوئوں کی موجودگی ظاہر نہیں ہوئی جس کے بعد محاصرہ ہٹایا گیا۔اس دوران جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات 44آر آر نے رات کی تاریکی میں  چلی پورہ ہف شرمال میں ہندوئوں کی خالی اراضی پر کیمپ قائم کر دیا ۔ واضح رہے اس سے قبل 1990کے بعد یہاں کوئی بھی فورسز کیمپ قائم نہیں کیا گیا تھا۔سنیچر کی صبح جب لوگ نیند سے بیدار ہوئے تو انہوں نے مذکورہ اراضی پر فوجی کیمپ دیکھا جس کی وجہ سے ان میں خوف و ہراس پھیل گیا۔