پی ڈی پی بھاجپا کا اتحاد بدترین ثابت ہوا

سرینگر//نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ پی ڈی پی بھاجپا کی سخت گیر اور نوجوان کُش پالیسی اور ظلم ستم کے نتیجے میں ہی جنگجویت میں اضافہ ہوا اور آج پروفیسر، یونیورسٹی طلباء، فوجی و پولیس اہلکار یہاں تک کہ پولیس والوں کے بچے بھی جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ انکا کہنا تھا مرحوم مفتی محمد سعید اور نریندر مودی جس دن بغلگیر ہوئے اُس دن سے لیکر آج تک کشمیریوں نے تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیکھا، گذشتہ ساڑھے 3سال کے دوران کشمیریوں پر جو مظالم ڈھائے گئے اُن کی مثال 1947سے قبل ملتی ہے۔بڈگام میں چرار شریف ڈیلی گیٹ سیشن سے خطاب کرتے عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی والوں نے بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرتے وقت بھی لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے کئی وعدے کئے اور ان وعدوں کو ’ایجنڈا آف الائنس‘ کا نام دیکر خوب تشہیر کی گئی۔ لوگوں سے کہا گیا تھا کہ بدلائو لایا جائے گا، نوجوانوں کو آباد کیا جائے گا، حریت سے بات کی جائیگی، پاکستان سے مذاکرات ہونگے، افسپا منسوخ کیا جائے گا، بجلی گھر واپس لائے جائیں گے، دفعہ370کیساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائیگی لیکن پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت کے ساڑھے 3سال میں سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔ اس دوران کشمیریوں کو دبانے کی پالیسی اختیار کی گئی، انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے ریکارڈ قائم کئے گئے، حریت سے بات ہوئی نہ پاکستان کیساتھ مذاکرات، بدلائو آیا نہ بجلی گھر واپس لائے گئے، نوجوانوں کو آباد کرنے کے بجائے انہیں پشت بہ دیوار کیا گیا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی کس منہ سے کہتی ہیں کہ انہوں نے دفعہ35اے اور 370کی حفاظت کی۔ موصوفہ کی حکومت میں ریاست پر جی ایس ٹی، سرفیسی ایکٹ اور فوڈ بل سمیت متعدد مرکزی قوانین لاگو کئے گئے اور دفعہ370کو کھوکھلا بنا دیا گیا۔ کٹھوعہ سانحے پر گندی سیاست کھیلی گئی، محبوبہ مفتی کے وزراء اس میں پیش پیش رہے لیکن موصوفہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا کا یہی ممبر آج کشمیری صحافیوں کو شجاعت بخاری کے جیسے انجام کی دھمکی دے رہا ہے اور بھاجپا لیڈرشپ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ نئی دلی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق مرکز کی پالیسی ہمیشہ ’تقسیم کرواور حکومت کرو‘ کی رہی ہے۔ عبداللہ نے کہا کہ اس وقت الیکشن ہمارا گول نہیں، موجودہ حالات انتخابات کی اجازت نہیں دیتے، لوگ مایوس ہیں، پریشانِ حال اور اقتصادی بحالی کے شکار ہیں۔