پی ڈی پی اور بھاجپا دریا کے دو کنارے

 اسلام آباد//کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے پی ڈی پی اور بھاجپا کو ایک دریا کے دو کنارے قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں کے قول و فعل میں واضح تضاد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 35-A کی منسوخی پر بھاجپا کا موقف واضح ہے لیکن حکومت میں وہ پی ی پی کی ساجھیدار جماعت ہے جو اس کی منسوخی کی مخالفت کر رہی ہے ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق ڈاک بنگلہ کھنہ بل اننت ناگ میں پارٹی کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے غلام احمد میر نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ریاستی حکومت نے کیوں کر اپنے 4 وزراء کو نئی دلی بھیج دیا ۔ انہوں نے پی ڈی پی سے سوالیہ انداز میں مخاطب ہوکر کہا کہ جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے تحفظ کے حوالے سے پی ڈی پی نے اب تک کون سے قدم اٹھائے ہیں وہ واضح کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 35-A کی منسوخی کا معاملہ اس وقت پورے ملک میں زیر بحث ہے لہٰذا پی ڈی پی کی سربراہی والی سرکار کو اس پورے معاملے پر وضاحت کرنی چاہئے کہ حکومت ہند کی جانب سے انہیں کس طرح کی یقین دہانی ملی ہے ۔ انہوں نے پی ڈی پی اور بھاجپا کو ایک دریا کے دو کنارے قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں کے قول و فعل میں تضاد ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کا 35-A کی منسوخی پر موقف واضح ہے لیکن وہ اقتدار میں اس جماعت کی ساجھیدار ہے جو اس کی مخالفت کر رہی ہے ۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا کہ اگر جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس سے مخاطب ہوکر کہا کہ دونوں جماعتیں جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو زخ پہنچانے کے در پہ ہیں جس کے نتیجے میں پوری ریاست میں آگ لگ سکتی ہے ۔ انہوں نے دونوں جماعتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرح کی کوششوں سے گریز کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے پر دن بہ دن حکومتی اتحاد میں تضاد بڑھتا ہی جارہا ہے جبکہ حکومت کی پالیسی کہیں پر بھی واضح طور نظر نہیں آرہی ہے کہ اس معاملے کے حل کا روڑ میپ کیا ہے ۔