پی ڈی پی۔بی جے پی حکومت پرمینڈھرکیساتھ امتیازکاالزام

مینڈھر//پی ڈی پی ۔بی جے پی مخلوط حکومت مینڈھرکے ساتھ امتیازبرت رہی ہے اوراسے امتیازی روش کوترک کرکے بلاتاخیر سب ڈویژن مینڈھرکوضلع کادرجہ دے کر دہائیوں سے نظراندازعلاقہ کے لوگوں کے ساتھ انصاف کرناچاہیئے۔ان خیالات کااظہار ممبراسمبلی مینڈھرجاویدرانانے ایک روزہ پارٹی ڈیلی گیٹ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزیدکہاکہ انسانی حقوق کی پامالیاں مخلوط اتحاد کے اقتدار میں روزِ مرہ کا معمول بن گیا ہے۔ سرحدی تنائو نے عوام کی زندگی اجیراً بنا دی ہے۔آزادی سے تاحال یہاں کی عوام کو ایک دن بھی سکون نصیب نہیں ہوا ہے۔آج تک سینکڑوں مائوں نے آپنی ہی گود میں اپنے بچوں کو دم توڑتے ہوئے دیکھا ہے۔سرحدی تنائو کا درد کوئی اُن مائوں سے پوچھے جن کے لختِ جگر اس دنیا سے چلے گئے ہیں۔اُن بہنوں سے کوئی پوچھے جنھوں نے آنکھوں کے سامنے آپنے بھائیوں کو کھویا ہے۔ اُن بچوں سے کوئی پوچھے جن کی کفالت کیلئے اس دنیا میں کوئی زندہ باقی نہیں ہے۔اس درد کی تکلیف کوئی موضع دیوتہ کی اس ماں سے پوچھے جس کی آنکھوں کے سامنے اس کے پانچ معصوم بچوں نے تڑپ تڑپ کر دم توڑا ہے اسلام آباد اور دہلی کے شاہی ایوانوں میںآرام فرمانے والوں کو بھلا ان زخموں کا کیا درد؟۔جاوید احمد رانا نے  مینڈھر میں ایک روزہ ڈلیگیٹ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ مسلسل سرحدی کشیدگی نے یہاں کی عوام کا جینا حرام کر دیا ہے۔کسی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا کہ آنے والے لمحات کسی موت کا پیغام لیکر آئیں گے۔جاوید احمد رانا نے کہا کہ سرحد پر اس کشیدگی اور بربریت کی ذمہ داری مرکزی سرکار خصوصاً وزیر اعظم ہند نریندر مودی پر عائد ہوئی ہے۔آج یہاں کے عوام مرکزی اور ریاست سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آخر کب تک ہم اس ظلم کی چکی میں پیستے رہیں گے کب تک اس سرحدی علاقہ کے والدین اپنے نونہالوں کوتڑپ تڑپ کر دم توڑتے دیکھتے رہیں گے۔انھوں نے کہا کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے اس بارڈر علاقہ کے عوام بدستور ان مظالم کے شکار ہیں لیکن کسی نے آج تک ان کے درد کااحساس نہ کیا ۔جاوید احمد رانا نے موجودہ ریاستی مخلوط سرکار پر الزام عائید کیا کہ یہ سرکار ان ہی اسمبلی حلقوں کی تعمیر و ترقی کرنا چاہتی ہے جہاں سے ان دونوں اتحاد یوں کے ممبران قانون ساز یہ جیت کر آئے ہیں۔ اس کی ایک واضع مثال حالیہ دنوں راجوری ضلع میں بیک وقت چار ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی آسامیوں کو منظوری دینا ہے جس سے یہ ثابت ہو گیا ہے۔ کہ اس سرکار کے سامنے قانون اور انسانی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انھیں اگر غرض ہے تو صرف اپنے اقتدار سے ہے انسانیت سے انھیں کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ مستقبل میں نیشنل کانفرنس اس قسم کی برائیوں کے خلاف ایک منعظم تحریک چلائے گی تاکہ ریاست اور ملک میں سیکولرازم کی جڑیں مضبوط ہوں اور انسانی وقار اور اختیار سر بلند ہوں انھوں نے کہا کہ ہم آئیندہ آنے والے ایام کے دوران مینڈھر میں سرحدی خلاف ورزی خصوصاً سب ڈیویزن مینڈ ھر کو ضلع کا درجہ دینے کے لئے باقائدہ جدوجہد کرے گی۔انھوں نے خطہ پیر پنجال کی عوام سے اپیل کی کہ آپ تمام بلا لحاظ ذات و جماعت مجموعی قومی مفاد ات کے حصول کی خاطر نیشنل کانفرنس کے ہل والے پرچم کے سائے تلے اکھٹے ہو کراپنے حقوق کے لئے قائد تاریک عمر عبد اللہ صاحب کو اپنا تعاون دیں۔اس موقعہ پر جن دیگر مقررین نے اجلاس سے خطاب کیا ان میں آیاز احمد خان نمبردار بالاکوٹ،میاں فاروق احمد،سردار نذیر اللہ خان،سردار منہور سنگھ،چوہدری آفتاب احمد،چوہدری محمد شفیق، و دیگران شامل تھے۔