پی اے او نظام التوا میں رکھنے کا معاملہ

 سرینگر//سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی حکومت کی طرف سے الیکٹرانک طرز پر رقومات کی ادائیگی(پی اے او) نظام کو التواء میں رکھنے کے احکامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا  ہے کہ اس نظام کو موخر کرنے کے پیچھے محرکات کیلئے مداخلت کرے۔ریاست میں پے اکونٹس آفس نظام کے نفاذ کے خلاف تعمیراتی ٹھیکیداروں کی ہڑتال کے بعد گزشتہ روز وزارت خزانہ کا چارج سنبھالنے والے سید الطاف بخاری نے اولین فرصت میں اس نظام کو پہلے مرحلے پر31 مارچ تک التواء میں رکھنے کے احکامات صادر کئے۔سرکار کے اس فیصلے پر عمر عبداللہ نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو سماجی رابطہ گاہ کا سہارہ لیتے ہوئے پیغام درج کرتے ہوئے تحریر کیا’’ گزشتہ3برسوں سے ریاست کی قانون سازیہ کو کہا جا رہا ہے کہ یہ اصلاحات رقومات کے تصرف کو شفاف بنانے کی راہ میں ایک بڑا قدم ہے۔قانون سازوں کے ووٹ سے منظور اس قدم کو ریاستی سرکار کے حکم نامہ سے درہم برہم کیا گیا‘‘۔مرکزی سرکار کو اس میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سابق وزیر ااعلیٰ نے تحریر کیا’’وزیر اعظم دفتر اور مرکزی وزارت خزانہ کو ضرورت ہے کہ وہ جموں کشمیر میں متعارف کرائے گئے’’ پی اے او‘ نظام کو واپس لینے کے  پس پردہ محرکات کاطویل،اور سخت جائزہ لے۔محکمہ خزانہ کی طرف سے منگل کو جاری کئے گئے ایک حکمنامے کے مطابق پے اینڈ اکائونٹس آف نظام کی عمل آوری 31 مارچ 2018ء تک التوار میں رکھی گئی ہے۔ مذکورہ حکم نامہ زیر نمبر  میں کہا گیا’’ حسابجات کی دائیگی نظام اور دفتر(پی ائے ائو) نظام کے اطلاق کو واپس لیا جاتا ہے،جبکہ آرڈر زیر نمبر 43-F of 2018محرر 8فروری2018لو31مارچ تک التواء میں رکھا جا رہا ہے‘‘۔