پی ایچ سی گول میں مشینری بیکار، عملے کی عدم دستیابی سے عوام پریشان

 
 
گول// جہاں ایک طرف سرکاروں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دوردراز علاقوں میں بہتر صحت کے لئے سرکار اور انتظامیہ کوشاں ہے لیکن زمینی سطح پر  یہ تمام دعویٰ بے سود ثابت ہو رہے ہیں ۔ ضلع رام بن سے 35کلو میٹر دور گول رام بن شاہراہ پر واقع پی ایچ سی ایک خالی عمارت کی شکل ہی پیش کر رہی ہے یہاں پر عملہ کی شدید قلت اور تجربہ کاروں کی قلت سے مریضوں کو رام بن یا جموں منتقل کرنا پڑتا ہے ۔ہسپتال میں بہت ساری ایسی مشینیں بھی ہیں جو کئی سالوں سے بیکار پڑی ہیںاور اب یہ زنگ آلودہ ہو رہی ہیں کیونکہ جب سے یہ مشینیں لائی گئی ہیں تب سے ان کا استعمال نہیںکیا گیاہے کیونکہ یہاں پر ایسا کوئی تجربہ کار نہیں ہے ۔یہاں پر ریلوے کمپنی کی جانب سے الٹرا ساونڈ ،ای سی جی مشین دی گئی تھی لیکن ان کو کوئی چلانے والا نہیں ہے جس وجہ سے یہ مشینیں کئی سالوں سے بے کار پڑی ہیں ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اسٹاف کی کمی کی  وجہ سے بھی لوگ کافی پریشان ہیں ۔ فاروق احمد نائیک ایک شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ افسوس کامقام ہے کہ کس طرح سے لاکھوں روپے کی مشینیں دی جاتی ہیں لیکن ان کو کوئی چلانے والا نہیں ہوتا ہے اور ان مشینوں کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی آنکھ مچولی بھی ہسپتال کی کارکردگی متاثر کر رہی ہے ۔ انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ یہاں پر جو بھی مشینیں ہیں ان کو چلانے کے لئے تجربہ کاراہلکاروں کو تعنیات کیاجائے ،ساتھ ساتھ بجلی کی قلت کو دور کرنے کے لئے ایک ڈی جی سیٹ نصب کیا جائے تا کہ ہسپتال میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔