پی ایم پیکیج ملازمین کا احتجاج211ویں روزبھی جاری

نیوز ڈیسک

جموں// آل مائیگرنٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن کشمیر کے بینر تلے پی ایم پیکیج ملازمین نے ریلیف کمشنر دفتر کے باہر احتجاج رکھا اور وادی میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہونے تک کشمیر سے جموں منتقلی کا مطالبہ کیا۔پی ایم پیکیج کے ملازمین نے وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر جموں منتقلی کا مطالبہ کرنے کے لیے اس احتجاج کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ریلیف اینڈ ری ہیبلی ٹیشن کمشنر (مہاجر) جموں کے دفتر میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین میں سے ایک نے کہا”کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے مختلف اضلاع میں خدمات انجام دینے والے پی ایم پیکیج ملازمین میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ ہم پی ایم پیکیج ملازمین کے مسائل پر حکام کی خاموشی سے مایوس ہیں‘‘ ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’’5 پی ایم پیکیج ملازمین کو کام کی جگہ پر قتل کیا گیا ہے۔ ہم گولیوں اور غلط پالیسیوں کا شکار ہیں۔ ہم کہاں جائیں گے؟”۔ایک اوراحتجاجی کا کہنا تھا کہ ’’ہم حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے پرامن مظاہرے کر رہے ہیں تاہم ملازمین پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ایک اورکا کہنا تھا کہ ’’کشمیر میں کے پی ایم پیکیج کے تقریباً 4500 ملازمین کو نجی طور پر کرائے پر رہائش فراہم کرنے والے زمینداروں کو بھی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اور اس وجہ سے ہمارے لیے وہاں خدمات انجام دینے کے لیے حالات موزوں نہیں ہیں‘‘۔