پی ایم جی ایس وائی کے تحت47پل اور900کلو میٹرسڑکیں نا مکمل حکومت نے کام شروع کرنے سے قبل تکنیکی اور انتظامی منظوری لازمی قرار دیدی

بلال فرقانی

سرینگر// وزیر اعظم دیہی سڑک یوجنا کے تحت جموں کشمیر میں47پلوں کے علاوہ 900کلو میٹر سڑکوںکو مکمل نہیں کیا گیا ہے جبکہ7سکیموں کو بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا گیا۔ مرکزی حکومت نے امسال وزیر اعظم دیہی سڑک یوجنا کے تحت جموں کشمیر میں65پلوں اور 59سڑک پروجیکٹوں کی تعمیرکیلئے 453کروڈ روپے کی منظوری دی۔محکمہ تعمیرات عامہ نے اس سلسلے میں اپنے حصے کے طور پر8کروڑ روپے کی پیشگی رقم واگزار کی،تاہم’پی ایم جی وائی‘ دوم کے تحت ابھی بھی کئی ایک پروجیکٹ مکمل نہیں ہوئے ہیں۔محکمانہ ذرائع نے مرکزی وزارت دیہی ترقی کے ساتھ منعقدہ گزشتہ میٹنگ کے’ مینٹس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میٹنگ میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ جموں کشمیر میں پی ایم جی ایس وائی،اول کے تحت360سڑکوں پر894کلو میٹر اور پی ایم جی ایس وائی دوم کے تحت23سڑکوں پر17کلو میٹر کا کام مکمل نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ویڈیو کانفرنس پر منعقدہ میٹنگ مرکزی وزارت دیہی ترقی کے سیکریٹری کی سربراہی میں منعقد ہوئی جس میں محکمہ تعمیرات عامہ کے پرنسپل سیکریٹری کے علاوہ پی ایم جی ایس وائی کے دونوں چیف انجینئر وں نے شرکت کی۔ مینٹس آف میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ جموں کشمیر کے نمائندوں نے اس بات کی جانکاری دی کہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت7سے8سکیمیں ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ہیں، کیونکہ یہ وائلڈ لائف یا جنگلاتی علاقوں سے گذرتی ہیں اور ان محکموں نے منظوری ابھی تک نہیں دی ہے۔ جموں کشمیر میں امسال پردھان منتری گرامین سڑک یوجنا کے تحت 59 سڑک پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے،جن پر452کروڑ57لاکھ روپے کی لاگت کا تخمینہ ہے ۔65پلوں کیلئے367.56کروڑ روپے کا تخمینہ ہے جس میں مرکزی سرکار330.80اور جموں کشمیر حکومت35.75کروڑ روپے اپنے حصص کے طور پر ادا کریں گے۔محکمہ تعمیرات عامہ کے پرنسپل سیکریٹری شلیندر کمار نے کہا ہے کہ محکمہ کے ڈائریکٹر فائنانس کو8کروڑلاکھ24 روپے کی رقم پیشگی میں واگزار کرنے کو منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم مرکزی وزارت دیہی ترقی کی جانب سے جموں کشمیر کو مرکزی معاونت کے تحت وزیر اعظم دیہی سڑک یوجنا کے تحت جموں کشمیر نے اپنے حصے کے طور پر واگزار کی ہے۔محکمہ پرنسپل سیکریٹری نے حکام سے تاکید کی ہے کہ کسی بھی کام کو شروع کرنے سے قبل اس کی تکنیکی اور انتظامی منظوری کو لازمی طور پر حاصل کریں۔ پرنسپل سیکریٹری شلیندر کمار نے ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس مقصد کیلئے رقومات کی واگزاری عمل میں لائی جاتی ہے ان رقومات کو ان ہی مقاصد کیلئے خرچ کیا جانا چاہیے۔ ڈائریکٹر فائنانس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسی مد کے تحت رقومات کی دستیابی کو یقینی بنائے۔ان کا کہنا ہے کہ پیشگی رقومات کی ادائیگی کی صورت میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حتمی رقومات کی واگزاری سے قبل معقول ضمانت حاصل کی جائے۔انہوں نے ہدایت دی کہ رقومات کے تصرف کیلئے رہنما خطوط پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔