پی او اے ترقی یافتہ ممالک کا مروجہ نظام، شورش زدہ ریاست میں نا قابل عمل

 سرینگر// صنعت کاروں کے مشترکہ پلیٹ فارم فیڈریشن آف چیمبر آف انڈسٹریزکشمیر نے وزیر خزانہ سید الطاف بخاری کی طرف سے’’پی اے او‘‘ نظام التواء میں رکھنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اشیاء و خدمات ٹیکس سمیت دیگر ایسے قوانین کو بھی کالعدم کیا جائے،جو کشمیر کی معیشت کیلئے سم قاتل ہے۔فیڈریشن آف چیمبر آف انڈسٹریزکشمیر کے صدر مختار یوسف کی صدارت میں منعقد ہونے والی میٹنگ کے دوران ممبران نے کہا کہ آن لائن ادائیگی کا نظام پیچیدہ صورتحال کی وجہ سے نا قابل عمل تھا۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام سابق وزیر خزانہ کے یورپ اور امریکی متحرک سماج سے ماخوز تخیل کی علامات میں سے ایک تھا۔انہوں نے کہا کہ وزیر کو یہ معلوم ہونا چاہے تھا کہ اس طرح کا نظام ترقی یافتہ ممالک میں ہی قابل عمل ہے اور کشمیر جیسے شورش زدہ علاقوں میں نا قابل عمل ہے۔فیڈریشن نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے کہ کچھ سیاسی جماعتیں اور سماج کے کچھ لوگ یہ تاثر پیش کر رہے ہیں کہ سابق وزیر خزانہ کو خزانہ نظام میں اصلاحات کی وجہ سے ہی فارغ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’پی اے او‘‘ نظام کے کھل کر سامنے آنے والے حمایتوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہے کہ یہ نظام’’بجٹ اسٹیمیشن،الوکیشن اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (بجٹ، تخمینہ، تشخیص و نگرانی نظام) کے ساتھ مربوط ہیں،جس میں پالیسی سطح پر9 شرائط اور آپریشنل سطح پر14شرائط ہیں،جنہیں عمل آور ایجنسی کو رقومات کی ادائیگی سے متعلق بلوں کو پیش کرنے سے قبل پورا کرنا ہے۔ چیمبر نے کہا کہ یہ تمام شرائط ایک زنجیرکی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،جبکہ منصوبہ بندی اور خزانہ کے مختلف حکام کو انتظامی و فیلڈ سطح پر مرتب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کسی بھی ایسی نئی اصلاحات کے خلاف نہیں ہے تاہم اس کی عمل آوری کیلئے متعلقین اور فریقین کی مشاورت قبل از وقت کی جائے۔انہوں نے وزیر خزانہ کو مشورہ دیا کہ افسران اور اصل فریقین کی ایک کمیٹی کو تشکیل دیا جائے ،جو اس نظام کو رائج کرنے سے قبل اس کے سیاق وسباق کا تعین کریں۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ تما م قواعد و ضوابط بشمول ریاستی صنعتی پالیسی کا بھی سر نو جائزہ لیا جائے۔فیڈریشن نے نئے وزیرخزانہ کے سامنے اشیاء و خدمات ٹیکس نظام کو کالعدم کرنے اور ریاست کا اپنا اشیاء و خدمات ٹیکس قانون لانے کا خاکہ بھی پیش کیا۔