پینے کے پانی کی عدم دستیابی

ٹنگمرگ //ٹنگمرگ کی ایک دور افتاد گجر بستی بمہ کل دارہ کشی کی آبادی گزشتہ پندرہ سالوں سے پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ۔ گائوں میں تعمیر کیا گیا فلٹریشن پلانٹ پندرہ سالوں سے تشنۂ تکمیل ہے ۔مقامی لوگوں نے پیر کو جل شکتی محکمہ کے خلاف زوردار احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی ۔احتجاج مظاہرین نے بتایا کہ پندرہ سال قبل اس وقت کی حکومت نے یہاں پینے کاصاف پانی فراہم کرنے کی غرض سے ایک فلٹریشن پلانٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تاہم گزشتہ پندرہ سال کے عرصے سے جل شکتی محکمہ ہر سال اس فلٹرشن پلانٹ کو شروع کرنے کی یقین دہانی کررہا ہے ۔گائوں کی آبادی ایک ندی سے پانی حاصل کرتے ہیں جو آلودہ ہے ۔احتجاجی لووگں نے ایل جی انتظامیہ سے اس سلسلے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔
 

 شاہ گنڈمیں خواتین کا احتجاجی دھرنا

 سرینگر// شاہ گنڈسمبل میں خواتین نے جل شکتی محکمہ کے خلاف احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں پینے کے صاف پانی کی سخت قلت ہے۔ احتجاجی خواتین نے کہا کہ علاقے میں پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے پیش نظر جل شکتی محکمہ کو کئی بار آگاہ کیا گیالیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ایک احتجاجی خاتون دلشادہ بیگم نے بتایا کہ انہیں گوناگوں مشکلات کا سامنا ہے۔انہوںنے کہا’’ہم دن بھر پانی کے حصول کیلئے خالی مٹکے ہاتھوں میں لیکر گھومتی رہتی ہیں ‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ گرمیوںکے ان ایام میں بھی وہ بھٹکتے رہتے ہیں۔ دھرنے پر بیٹھی دیگر خواتین نے کہا کہ انہیںنزدیکی ندی نالوں کا پانی استعمال کرنا پڑتا ہے جو استعمال کے قابل نہیںہے۔ احتجاجی خواتین نے کہا کہ اگرچہ علاقہ میں پانی کا ایک ٹینکر بھی بھیجا جاتاتھا لیکن وہ بھی بند کیا گیا اور یوں ہزاروں نفوس پر م مشتمل آ بادی پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے ۔اس موقع پر سرکاری ذمہ داروں نے احتجاجی خواتین کو یقین دلایا کہ اس مسئلہ کو حل کیا جائے گا جس کے بعد خواتین منتشر ہو گئیں۔سی این ایس