پینے کے پانی کی عدم دستیابی

بارہمولہ//درنگہ بل بارہمولہ میںپینے کے پانی کی عدم دستیابی پر قابو پانے کیلئے 8 سال قبل ایک فلٹریشن پلانٹ پر کام شروع کیا گیا جو ابھی بھی تشنۂ تکمیل ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ۔مقامی لوگوں نے محکمہ پی ایچ ای پر الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 2009میں درنگہ بل ،خانیار اور جل شیری کیلئے ایک فلٹریشن پلانٹ پرکام شروع کیا اور پروجیکٹ کو دو برسوں کے اندر اندر مکمل کرنا تھا تاہم آٹھ سال بیت گئے لیکن پروجیکٹ نامکمل ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے وہ گندہ پانی پینے پر مجبور  ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فلٹریشن پلانٹ کا تقریباً80 فیصدکام مکمل کیا جا چکا ہے مگر20 فیصد کام نامکمل رہنے کی وجہ سے پلانٹ زنگ آلودہ ہونے لگا ہے ۔ایک مقامی شہری حبیب اللہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ناصاف پانی پینے کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوںنے سرکارسے مطالبہ کیا کہ اس فلٹریشن پلانٹ کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ لوگوں کو صاف پانی دستیاب ہو۔اس سلسلے میں محکمہ پی ایچ ای کے افسران نے بتایا کہ فلٹریشن پلانٹ پر رقوم کی عدم دستیابی کی وجہ سے کام رکا پڑا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جونہی رقوم واگذار ہونگے ،پلانٹ پر دوبارہ کام شروع کیا جائے گا۔