پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی | ہارون اورترال کے کئی علاقوں میں عوام کو مشکلات درپیش

سرینگر+ترال//ہارون سرینگر اورترال کے متعدد علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ہارون کے دارا، چیک دارا، ناگبل ، آستان محلہ اور دردکھور سمیت دیگر علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کا کہنا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی قلت کی وجہ سے انہیں  گوناگوں مشکلات کا سامنا ہے۔ جل شکتی محکمہ نے 2018میں درد کھور کے مقام پر لاکھوں روپئے کی لاگت سے تعمیر کئے جانے والے نئے فلٹریشن پلانٹ کی رپورٹ مرتب کی تھی جس کے تحت نالہ ملوری سے پانی لاکر درد کھور فلٹریشن پلانٹ سے سپلائی کیا جاتا جس کے لئے رقومات بھی فراہم کئے گئے تھے لیکن وہ رپورٹ دفتروں کی دھول چاٹ رہی ہے۔ جل شکتی محکمہ نے محکمہ مال سے اراضی منتقل کرنے کی درخواست دی تھی تاہم فلٹریشن پلانٹ کیلئے درکار اراضی محکمہ جنگلات کی ملکیت نکلی جس کے بعد تینوں محکموں کی آپسی رسہ کشی کی بدولت ان علاقوں میں رہائش پذیر آبادی پانی کے لئے ترس رہی ہے۔ہارون سٹیزن کونسل کے چیئرمین پیر بلال احمد نے لیفٹیننٹ گورنر سے اس سلسلے میں مداخلت کی اپیل کی۔ ترال کے زاجی کھوڑ گوجر بستی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بتایا کہ ان کے علاقے میں پینے کے پانی کی سخت قلت پائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ انہیںطرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔لوگوں نے بتایا کہ گائوں میں پانی کی ایک گاڑی آتی ہے جس کا پانی بستی کے لوگوں کی ضروریات کو پورا نہیں کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا جو لوگ سڑک سے دور رہتے ہیں وہ اکثر اوقات پانی حاصل کرنے سے رہ جاتے ہیں ۔ اسی طرح زاری ہاڑ پائین کے لوگوں نے بھی بتایا کہ انہیں پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ادھر بنگہ ڈار ستورہ ترال،نئی بستی ستورہ کے علاوہ آری پل کے کئی مقامات پر پانی کی قلت ہے ۔پدگام پورہ اونتی پورہ،ہفو اور پنگلش ترال میں بھی پینے کے پانی کی شدید قلت پائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے انہیں طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ادھر ترال کے حاجن علاقے میں کئی سال قبل ایک فلٹریشن پلانٹ تعمیر کیا گیا تھا جس کو مقامی آبادی کے مطابق چالو نہیں کیا گیا ہے اور لوگ مضر صحت پانی استعمال کر رہے ہیں ۔ستورہ کی آبادی نے بتایا کہ علاقے میں مضر صحت پانی کے استعمال سے لوگ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں ۔ لرو جاگیر ترال میں ایک فلٹریشن پلانٹ لاکھوں روپئے سے تعمیر کیا گیا جو استعمال کرنے سے قبل ہی ناقابل استعمال بن گیاکیونکہ اس پلانٹ میں اب پانی ضائع ہوتا ہے۔ گانگ اور بٹہ گنڈ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ فلٹریشن پلانٹ ان بستیوں کے لئے تعمیر کیا گیا تھا تاہم لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باجود دونوں بستیاں پانی سے محروم ہیں اور پلانٹ تعمیر کرنے کامقصد ہی فوت ہوا ہے۔ لوگوں نے اس حوالے سے اعلیٰ حکام سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔