پیلٹ کی مہربانی:کھنموہ کے قیصر منظور کی دُینا اندھیری رات میں تبدیل

 سرینگر //سال 2017میں پیلٹ لگنے سے دائیںآنکھ کی بینائی کھونے والے 18سالہ نوجوان قیصر منظور ساکن کھنمو سرینگر ،دربگام پلوامہ میں دوبارہ پیلٹ لگنے کی وجہ سے بائیں آنکھ کی بینائی سے بھی محروم ہوگیا ہے۔18سالہ قیصرکو نہ صرف آنکھوں کی بینائی سے محروم کردیا گیا ہے بلکہ والدین کی آخری اُمیدوں کا سہارا ہی دوسروں کی مدد کا محتاج بن گیا ہے۔قیصر منظور نے 8ویں جماعت کے بعد تعلیم ترک کردی تھی جس کے بعد وہ اپنے والد کی طرح ہی بطور ڈرائیور کام کرنے لگا مگراسکے باوجود قیصر احتجاجی مظاہروں کا حصہ بنتا رہا ۔ قیصر کے والد منظور احمد کا کہنا ہے فورسز اہلکاروں نے قیصر کو جان بوجھ کر پیلٹ کا نشانہ بناکر انکی اُمیدوں کے چراغ کو بے نور کردیا ہے۔منظور احمد نے بتایا ’’ قیصر اگست 2017کو سرینگر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد آنکھوں میں پیلٹ کا شکار بنا۔کئی دن وارڈ 8میں زیر علاج رہا تاہم اسکی آنکھ کی بینائی میں کوئی بہتری نہیں آئی ۔ منظور احمد نے بتایا کہ اسپتال سے رخصتی کے بعد قیصر کافی دیر تک گھر میں رہا ، اسلئے ہم نے گھر میں قیصر کو دکان کھول کردی اور وہ دکان پر بیٹھا کرتا تھا ۔مگر یہ بات سچ ہے کہ قیصر کافی جذباتی ہے۔ منظور احمد نے بتایا کہ قیصر سوموار کو کچھ سامان لینے کیلئے پلوامہ گیا تھا، جہاں سے وہ دربگام گیا ،جہاںوہ فورسز اہلکاروں کے چھروں کا نشانہ بنا،جسکی وجہ سے قیصر کی بائیں آنکھ میں پیلٹ لگنے کی وجہ سے شدید چوٹیں آئیں اور بہت کم اُمید ہے کہ وہ دوبارہ پھر سے دیکھنے کے قابل ہوگا ۔ صدر اسپتال سرینگر میں امراض چشم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ قیصر کی بائیں آنکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایک سینئر ڈاکٹر نے  بتایا کہ سوموار کو قیصر کی بائیں آنکھ میں پیلٹ لگے جسکی وجہ سے اسکی آنکھ کی پتلی میں دو چھید ہوگئے ہیں اور پیلٹ دماغ میں موجود بینائی کی نس تک جاپہنچا ہے ۔ مذکورہ ڈاکٹر نے بتایا کہ قیصر منظور کے بارے میں حتمی طور پر بدھ کے چیک اپ کے بعد ہی پتہ چلے گا تاہم بینائی لوٹنے کی کافی کم اُمید ہے۔ واضح رہے دربگام پلوامہ میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے والے 5نوجوانوں میں سے قیصر منظور کے علاوہ عمر فاروق شادی مرگ اور محمداقبال دربگام کی بائیں آنکھ میں پیلٹ لگنے کی وجہ سے بینائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔