پیلٹ کا متبادل صوتی گولہ چھروں سے بھی زیادہ خطرناک

 سرینگر// ریاستی حکومت کی طرف سے بھیڑ کو قابو کرنے کیلئے استعمال کئے جارہاصوتی گولہ(Long Range Ascoctic Device) لوگوں کوقوت سماعت ے محروم کرسکتاہے۔ وادی میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صوتی گولہ(LRAD)سے پیدا ہونے والے 140ڈی بی شور سے نہ صرف احتجاجی مظاہروں میں شامل ہونے والے لوگوں کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے بلکہ یہ گھروں میں بیٹھی خواتین اور بچوں کیلئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ۔ مرکزی سرکاری کی طرف سے پیلٹ گن کے متبادل کے طور پر زیادہ شور پیدا کرنے والے LRADگولوگوں اور بجلی کا جھٹکا دینے والے ہتھیاروں کو منظوری ملی ہے تاہم وادی میں ماہرین کا کہنا ہے کہ LRAD یا سونک ہتھیار پیلٹ کی طرح ہی جا ن لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔ سرینگر کے جی وی سی میں شعبہ ای این ٹی کے ماہر ڈاکٹر انیک جیلانی نے بتایا ’’ عام انسان کے کانوں میں صرف اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ 20ڈی بی سے لیکر 25ڈی بی تک کی آواز اچھے طریقے سے سن سکتا ہے اور اس درجے کا شور انسانی کانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا مگر جوں ہی یہ شور بڑھتا جاتاہے ، انسانی کانوں کو نقصان پہنچنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے‘‘۔ ڈاکٹر انیک جیلانی نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ 85ڈی بی کا شور انسانی کان برداشت کرپاتے ہیں مگراس درجے کے شور میں انسانی کانوں کو کافی نقصان پہنچتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سرکار کی طرف سے پیلٹ گن کے متبادل کے طور پر منتخب کئے گئے LRADیا سانک ہتھیاروں سے ریاستی سرکار کے مطابق صرف 140ڈی بی شور پیدا ہوتا ہے جو انسانی کانوں کے پردے پھاڑ دینے کیلئے کافی ہے۔انہوں نے کہا کہ شور کی وجہ سے کانوں کے اندر موجودتہہ( membrane)کے نیچے دبے بالوں کو نقصان پہنچتا ہے جس کو دنیا کا کوئی بھی ڈاکٹر ٹھیک نہیں کرسکتا ہے۔ ڈاکٹر انیک جیلانی نے کہا کہ LRAD یا سانک ہتھیار انسان کو پیلٹ گن کی طرح ہی معذور بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیلٹ گن کے استعمال سے کشمیریوں کی بینائی گئی ہے جبکہLRADگولہ سے کشمیری عوام سننے کی طاقت سے محروم ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر انیک جیلانی نے کہا کہ LRAD ہتھیار انسان کو نہ صرف بہرا بناتے ہیں بلکہ اس کے استعمال سے گھروں میں بیٹھی خواتین اور بچوں کے بھی کان کافی دیر تک بجتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر انیک جیلانی نے کہا کہ زیادہ شور سے انسانی جسم کے اندر ہر اس حصے کو نقصان پہنچتا ہے جس میں پانی بھرا ہو۔ سرینگر کے صدر اسپتال میں شعبہ ای این ٹی کے ایک ماہر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایسے ہتھیاروں کا استعمال یورپ میں مظاہرین کو روکنے کیلئے کیا جاتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ26فٹ کی دوری تک یہ ہتھیار انسانی کانوں کو کافی نقصان پہنچاتے ہیں ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ان ہتھیاروں کے استعمال سے نہ صرف مظاہرین کے کانوں کو نقصان ہوگا بلکہ آنکھوں کے اندر موجود پانی کو روکنے والی پرت(membrane)کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور اس طرح آنکھیں اور کان دنوں متاثر ہوتے ہیں‘‘۔ مذکورہ ڈاکٹر نے بتایا کہ مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کے استعمال سے گھروں سے باہر آئے لوگ ہی متاثر ہوتے تھے مگر LRAD کے استعمال سے گھروں کے اندر بیٹھے بچے اور بزرگ بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 26فٹ کی دوری سے LRADسے آنے والی آواز سے کافی دیر تک گھروں میں بیٹھے افراد کے کان بجتے رہتے ہیں جو بچوں اور بزرگوں کیلئے کافی تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے پیلٹ گن کے متبادل کے طور پر بجلی پیدا کرنے والے ہتھیاروں اور LRAD کو منظوری دی ہے جو دونوں ہتھیار انسانوں کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔