پیلٹ شکار فیصل امتحان میں بیٹھ نہ سکا

 
پلوامہ// دسویں جماعت کے امتحانات میں شرکت کا متمنی فیصل احمد امتحان میں بیٹھ نہیں سکا کیونکہ فیصل دونوں آنکھوں میں پیلٹ لگنے کہ وجہ سے بینائی سے محروم ہوچکا ہے۔جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کریم آباد گائوں سے تعلق رکھنے والا فیصل اپنی قسم پر رو رہا ہے کیونکہ وہ دسویں جماعت کا پہلا پرچہ نہیں دے سکا ۔ فیصل نے کہا کہ میرا خواب تھا کہ میں دسویں جماعت کے امتحان میںشامل ہوجائوں اور آج میرے پسندیدہ مضمون سائنس کا پرچہ تھا مگر میں بد قسمتی سے امتحانات میں شریک نہیں ہوسکا۔‘‘  فیصل نے کہا ’’ میرے آنکھوں کی حالت  ، مجھے امتحان میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دیتی کیونکہ میں پڑھ نہیں سکتا ۔ ‘‘ فیصل نے مزید بات کرتے ہوئے کہا ’’ میری بائیں آنکھ کی 85فیصد اور دائیں آنکھ میں 15فیصد روشنی گئی ہے۔‘‘ فیصل نے کہا کہ 24اگست کو ’’پرچھو چلو ‘‘ پروگرام کے تحت پر امن احتجاج جاری تھا  تاہم فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ گنوں کا استعمال کیا جس دوران میری دونوں آنکھوں میں پیلٹ لگے ۔  فیصل نے کہا کہ پہلے مجھے پانپور میں پرائیمری ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے میرے زخموں کو گہرا قرار دیتے ہوئے صدر اسپتال منتقل کیا  ۔ فیصل نے بتایا کہ میری دونوں آنکھوں میں دوسرے درجے کی جراحیاں ہوئیں ہیں مگر میری بینائی میں کوئی فرق نہیں آیا۔  فیصل نے مزید  کہا ’’ اب ڈاکٹروں نے تیسری درجے کی جراحی کے دوران آنکھوں میں لینس لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور ڈاکٹروں کو اُمید ہے کہ اس کے بعد میری 50فیصد بصارت واپس حاصل ہوسکتی ہے۔فیصل نے کہا کہ میں سخت پریشان ہوگیا تھا جب میرے دوست امتحانات میں شرکت کرنے کی غرض سے گھر سے باہر آئے مگر میں گھر میں ہی بیٹھا تھا۔ فیصل نے کہا کہ میں امتحان میں شریک ہونا تو دور کی بات ہے ، میں داخلہ کارڈ بھی نہیں لا سکا کیونکہ میں اپنی آنکھوں کا علاج کرانے میں مصروف تھا۔ فیصل کی والدہ آمنہ نے کہا ’’ فیصل ایک اچھا بیٹا ہے اور ہمیں اس سے کافی اُمیدیں ہیں۔ آمنہ نے کہا کہ ہم نے فیصل کے علاج پر بہت پیسہ خرچ کیا ہے ، ہمیں امُید تھی کے وہ اپنے سکول میں دسویں جماعت کے امتحان میں سب سے زیادہ نمبرات حاصل کرے گا مگر وہ امتحانات میں بھی شریک نہیں ہوسکا ۔ آمنہ نے بتایا کہ اس کا دوسرا بیٹا عامر حسن جیل میں ہے کیونکہ اس پر پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کیا گیا ہے۔ آمینہ نے بتایا کہ عامر کو 11ستمبر کو گرفتار کیا گیا اور اس پر پی ایس ائے عائد کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ عامر پشمینہ کی تجارت سے جڑا تھا اور  جرم بے گناہی کی پاداش میں اس پر پی ایس ائے عائد کردیا گیا جبکہ وہ کبھی بھی بھارت مخالف مظاہروں کا حصہ نہیں بنتا تھا۔‘‘ آمینہ نے کہا کہ میرے شوہر پیشے سے مزدور ہے اور عامر گھر کا واحد کمائو شخص تھا مگر اب عامر جیل میں ہے جبکہ اس کا دوسرا بھائی بری طرح سے متاثر ہے۔