پیلٹ سے بینائی کھونے والے افراد کی تفاصیل

سرینگر//ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ گذشتہ 5ماہ کے پرتنائو حالات کے دوران وادی میںپیلٹ سے آنکھوں کی بینائی کھو نے والے افرادکی تفصیلات کمیشن کے سامنے پیش کرے ۔اس سلسلے میں ضلع ترقیاتی کمشنروںکو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام تر تفصیلات کمیشن کے آفس میں 3فروری2017تک جمع کرائیں ۔اس کے علاوہ کمیشن نے متاثرین اور ان عام شہریوں کو بھی کمیشن کے ساتھ رجوع کرنے کیلئے کہا ہے ،جو اس سلسلے میں جانکاری رکھتے ہوں ۔ پلٹ گنوں کے استعمال سے آنکھوں کی بینائی کھونے والے افراد کے بارے میں میڈیا میں آئے رپوٹوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جموں و کشمیر سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن (SHRC)کے چیرمین جسٹس (ر) بلال نازکی نے کشمیر صوبے کے تمام 10 اضلاع کے ڈپٹی کمشنروںکو ہدایت دی کہ وہ ایسے تمام متاثرین کی تفصیلی رپورٹ کمیشن کے سامنے پیش کریں ۔اس سلسلے میں سوموار کو سٹیٹ ہیومین کمیشن نے ایک آڈر زیر نمبرSHRC/2016/PS/19اجراء کیا جس میں وادی کشمیر کے 10 ڈپٹی کمشنروںکو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پیلٹ سے آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوئے افراد کے بارے میں تمام تر جانکاری ،جس میں متاثرہ شخص کا نام اور رہائش ،چوٹ آنے کی تاریخ اور جائے وقوع چوٹ،چوٹ آنے کی حد ، متاثرین کو فراہم کئے گئے علاج و معالجہ اور دئے گئے معاوضہ کی ادائیگی شامل ہے،کمیشن کو پیش کریں ۔کمیشن کے چیرمین نے ڈپٹی کمشنروںکو اس سلسلے میں مفصل رپورٹ 3فروری 2017تک کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ ہیومن رائٹس کمیشن نے مزید کہا ہے کہ متاثرین اور وہ شہری بھی کمیشن کو اس سلسلے میں مفید معلومات فراہم کرسکتے ہیں اور وہ بھی اپنے طور کمیشن کے ساتھ رجوع کرسکتے ہیں ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران 1447نوجوانوں میںسے 131آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے ہیںجبکہ پیلٹ لگنے سے 7افراد دونوںآنکھوں کی بینائی جبکہ 77ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔جولائی کے پہلے ہفتے میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی اور اسکے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد وادی میں شروع ہوئی احتجاجی لہر کے دوران فورسز کی طرف سے مظاہرین پراستعمال کئے گئے چھروں کے استعمال سے جہاں سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے وہیں131آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے ۔