پیلٹ استعمال سے بینائی متاثرین کی بازآبادکاری

سرینگر//عدالت عالیہ نے پیلٹ متاثرہ افراد جن کی بینائی کلی یا جزوی طور متاثر ہوئی ہے،کی بازآبادکاری کیلئے سرکار کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس رشیدعلی ڈار پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سینئر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بشیر احمد ڈار کو حکم دیا کہ وہ دو روز کے اندر اندر عدالت کے سامنے تفصیلات پیش کریں کہ سرکار کی جانب سے بینائی متاثرہ افراد بشمول پیلٹ متاثرین کی بازآبادکاری کیلئے کون سے اقدامات کئے گئے اور انہیں کون سی سہولیات بہم رکھی گئیں ۔عدالت عالیہ کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر مفاد عامہ عرضی پر سماعت کے دوران کیا۔یہ ہدایات سپریم کورٹ کی جانب سے پیلٹ گن کے حوالے سے دائر عرضی پر6ہفتوں کے عرصے میں فیصلہ سنانے کی ہدایت کے بعد دوسرے روز جاری کی گئی ہیں ۔بار ایسوسی ایشن کی طرف سے اسکے صدرایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم نے پیلٹ متاثرین کی حالت زار اور اس گن کے استعمال سے ہونے والے جانی نقصانات کی تفصیلات پیش کیں ۔2010سے کشمیر میں مظاہرین کو قابو کرنے کیلئے پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں سے بیشتر کی بصارت کھو گئی۔میاں قیوم نے عدالت کو بتایا کہ 21ستمبر2016کو عدالت عالیہ نے پیلٹ گن کے استعمال کو روکنے کی عرضی خارج کردی تھی جب سرکار نے اسے بتایا کہ اس نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو پیلٹ کے متبادل کو پیش کرے گی ۔انہوں نے بتایا کہ پینل رپورٹ آج تک عدالت میں پیش نہیں کی گئی ہے ۔ڈویژن بنچ نے اس صورتحال کو بدقسمتی سے تعبیر کیا کہ ابھی تک نابینا افراد کی بازآبادکاری کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔کیس کی اگلی سماعت 24جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔