پیر کھو سے مُبارک منڈی تک عمودی لفٹ کی تنصیب کو ہری جھنڈی ریشی پورہ بڈگام میں 125بستروں کے ہسپتال کی تعمیر کو منظوری

عظمیٰ نیوز سروس

سری نگر//اِنتظامی کونسل کی ایک میٹنگ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں جموں روپ وے پروجیکٹ کے پیر کھو سٹیشن سے مُبارک منڈی ہیر ٹیج کمپلیکس تک عمودی لفٹ کی تنصیب کے لئے اِنتظامی منظوری دی گئی ۔ یہ پروجیکٹ 27کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔میٹنگ میں لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا ، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر مندیپ کمار بھنڈاری نے شرکت کی۔عمودی لفٹ کی تنصیب مبارک منڈی ہیرٹیج کمپلیکس کو جموں روپ وے پروجیکٹ کے پیر کھو سٹیشن اور دیگر سیاحتی اور زیارتی مقامات سے جوڑ دے گی جو ایک مکمل سیاحتی اور پلگرم سرکٹ فراہم کرے گی ۔یہ سرکٹ جموں روپ وے پروجیکٹ، پیرکھو مندر، مہامایا مندر، باہو فورٹ، باغ بہو اور بھاوے ماتا جی مندر جیسے قریبی مقامات پرآنے والے سیاحوں اور یاتریوں کے لئے بڑی سہولیت کا باعث ہوگا۔یہ لفٹ مُبارک منڈی کمپلیکس سے دیگر تین پراچین مندروں اور ضلع جموں کے دیگر سیاحتی مقامات تک آسان رابطہ فراہم کرے گی ۔

یہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائین پر آنے والے یاتریوں کو بھی اَپنی طرف متوجہ کرے گااور اُنہیں ایک مکمل مذہبی سرکٹ فراہم کرے گا۔ یہ پروجیکٹ ورثے اور یاتریوں کی سیاحت کو فروغ دے گا ، جموں روپ وے پروجیکٹ کی آمدنی میں اِضافہ کرے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔پروجیکٹ دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ہر ایک میں بالترتیب 38اور 30میٹر کے عمودی اِضافہ اور 34اور 30 میٹر کے سپین کے ساتھ دو فٹ برجز ہوں گے ۔اِس پروجیکٹ میں ایک بیس سٹیشن ، ایک اِنٹرمیڈیٹ سٹیشن ، ایک اپر سٹیشن اور کیپسول قسم کے کیبن ہوں گے جن سے پینورا مک نظارے ہوں گے ۔

اِنٹرمیڈیٹ سٹیشن پر پارکنگ بھی دستیاب ہوگی۔اِنتظامی کونسل میں ریشی پورہ بڈگام میں 125 بستروں کے ہسپتال کی تعمیر کو اِنتظامی منظوری دی گئی۔ہسپتال کی تکمیل لاگت 49.32 کروڑ روپے آئے گی جس سے علاقے کے لوگوں کے لئے معیاری صحت خدمات تک رسائی میں بہتری آنے کی اُمید ے۔یہ ہسپتال عوام کے لئے ہیلتھ کیئر کو بڑھانے ، ہنر مند اور غیر ہنر مند پیشہ ور اَفراد ، طبی ماہرین ، پیر امیڈکس وغیرہ کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ہسپتال مریضوں کے بڑھتے ہوئے رَش سے نمٹنے میں بھی مدد کرے گا او رتوقع ہے کہ ضلع بڈگام اور اس کے آس پاس رہنے والی آبادی کے ایک بڑے حصے کو فائدہ پہنچے گا۔