پیر سیف اللہ جیل میں علیل:صحرائی

 سرینگر// تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے پارٹی کے محبوس رہنما پیر سیف اللہ کی تہاڑ جیل میں صحت بگڑنے اور معقول علاج ومعالجہ نہ ملنے پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پیر سیف اللہ گرفتاری سے قبل ایک بڑے آپریشن سے گزرے تھے، کیونکہ ان کو ٹیومرکی تکلیف کا سامنا تھا، جس کا دہلی میں آپریشن ہوا اور ابھی زیر علاج ہی تھا کہ این آئی اے نے گرفتار کرکے دہلی کی تہاڑ جیل میں شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، راجہ معراج الدین، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار سمیت ایک فرضی کیس میں بند کردیا۔ صحرائی نے کہا کہ اس دوران اُن کی صحت کئی بار بگڑ گئی مگر ان کا خاطر خواہ علاج نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے اُن کی صحت بُری طرح بگڑ گئی اور آج اُن کی جیل میں حالت یہ ہے کہ وہ بے ہوش ہوکر باتھ روم میں گر پڑے ہیں جس کے بعد اُن کو جیل کی ڈسپنسری میں رکھا گیا ہے، لیکن  اُن کی حالت میں کوئی سدھار نہیں ہوا ہے۔ تحریک حریت چیئرمین نے کہا کہ انسانیت کا تقاضا تھا کہ تہاڑ جیل میں مقید سبھی حریت لیڈران کو انسانی اور اخلاقی بنیادوں پر رہا کیا جانا چاہئے تھا اور ان کی رہائی کو بھارتی حکمرانوں کی مثبت سوچ سے تعبیر کیا جاسکتا تھا مگر بھارت کے حکمران انہیں سیاسی انتقام گیری کا شکار بنارہے ہیں۔ صحرائی نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ قیدیوں کی رہائی میں اپنا کردار ادا کریں۔