پھول چہرہ مظلومہ کاسوال

 دنیا میں بے شمار مخلوق ہیں مگر انسان کو جو شرف حاصل ہے وہ محض درد دل اور صفت ِانسانیت کی وجہ سے ہے۔ بہت بار ایسا ہوا کہ انسانیت تار تار ہوئی اور اپنے پیچھے ایسی دلخراش یادیں چھوڑ گئی کہ اس پر برسوں زمانے کی آنکھ اشک اشک ہوتی رہی۔ کشمیر میں ماردھاڑ اور بردبایوں کے بیچ ایسے لاتعداد صدمہ خیز قیامتیں بھی پیش آئیں جو کشمیری قوم کے اجتماعی حافظے میں دُکھ اور تکلیف کا دھواں بن کر چھا ئی ہیں ، ان میں کنن پوش پورہ ، بدراں پائین اور آسیہ ونیلوفر کی آبروریزی اور قتل ہماری تاریخ کے بد نما دھبے ہیں لیکن کھٹوعہ جموں میں 8؍ سالہ آصفہ کا ہولناک المیہ اور اس کے پیچھے کارفر ما سیاہ عزائم باور کراتے ہیں کہ ہم ابھی پتھر کے زمانے میں رہ بس رہے ہیں۔ بلاشبہ نابالغ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے  بیسیوںواقعات آج تک ہوئے ہیں لیکن آصفہ جیسا المیہ کسی معصوم کم سن بچی کے ساتھ محض جنسی زیادتی ہی نہیں بلکہ اس واقعہ کے پس پردہ زعفرانی سیاست کا چیستاں ہے،گوجر بکروال مسلمانوں سے نفرت وحسد کی بھڑکتی آگ ہے، آر ایس ایس کی مسلم بیزاری کا جارحانہ نظر یہ ہے ۔ اس لئے اس منظم سازش کی ہیئت ترکیبی کو سمجھنے کی ضرورت ہے جوآتش فشاں کی صورت میں ریاستی مسلمانوں کے تئیں وقت کے اُن جابروں ظالموں اور ان کے حاشیہ برداروں کے منصوبوں سے جھلکتا ہے جن کے ہاتھ میں اقتدار کی باگیں اور سیاست کی کنجیاں بھی ہیں ۔ آصفہ ٹریجڈی انہی بدقماشوں کا ایک مشتے نمونہ از خروارے ہے جس نے منطق، اخلاق اور انسانیت کی دھجیاں بکھیر دیں اور بجاطور یواین سیکر ٹری جنرل سے لے کر فلمی ستاروں ، قومی کھلاڑیوں ، معروف دانش وروں اور عام انسانوں کے دلوں میں غم زدہ جذبات کی ہلچل پیدا کردی ۔
اندازہ کیجئے کہ8 ؍سالہ، جی ہاںکھٹوعہ ضلع کے رسانہ علاقے کی صرف 8؍ سالہ بکروال کلی آصفہ کا معمول تھا کہ وہ گھوڑے کو چرانے پاس ہی کے جنگل جاتی۔ اُس دن بھی وہ یہی کام کرنے بے فکری کے عالم میں جنگل گئی تھی لیکن واپس نہ لوٹی۔لوٹتی بھی کیسے اُسے سنگھی راکھشسوں نے منظم سازش کے تحت اغواء کیا ، مسل ڈالااورپھر بے رحمانہ قتل کر کے زمین انسانیت اور آسمان ِآدمیت کو رُلادیا ۔ اس بارے میںکرائم برانچ کی رپورٹ سے ایسے ایسے دلدوز انکشافات ہوئے ہیں کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ محکمہ مال کا ایک سبکدوش ملازم سنجی رام اپنے آوارہ گرد بھتیجے سے کہتا ہے کہ ہمیں مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے تمہیں 8 سال کی بچی کا اغواء کرنا ہوگا۔ جنگل کے پاس ہی رام کا مکان ہے۔ رام کا ٹین ایجر بھتیجا اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر نشے کی گولیاں بازار سے لاتا ہے اور 10 جنوری 2018 کو جب معصوم آصفہ اپنے گھوڑے کو لینے جنگل جاتی ہے تو یہ دونوں بدمعاش بچی کا اغواء کرتے ہیں اور زبردستی نشے کی گولیاں کھلادیتے ہیں، بے ہوشی کی حالت میں اُسے اسی مندر میں پہنچایا جاتا ہے جس کا کرتادھرتا سنجی رام ہے۔وہاں اس کی مسلسل اجتماعی عصمت دری کی جاتی ہے اور 6 روز تک یہ سلسلہ بھوک پیاس کی ماری کلی کے ساتھ جاری رہتا ہے، اس دوران اغواء کارسنجی رام کے بیٹے وشال جو کہ میرٹھ میں پڑھائی کرتا ہے، کو فون کرکے بلایاجاتا ہے کہ آؤ تم بھی اپنی ہوس کو مٹاؤ۔ وہ میرٹھ سے آتا ہے اور معصوم بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ معصوم آصفہ کو مسلسل نشے کی گولیاں پلائی جاتی ہیں تاکہ کراہ نہ سکے اور بے ہوشی کی حالت میں بے دست وپاپڑی ر ہے۔ پاپ کایہ سارا گھناؤنا کھیل مندر میں ہوتا ہے، وہی مندر جہاں بھگوان کی پوجا ہوتی ہے، وہی مندر جس کی آستھا کو لے کر زعفرانی طبقہ فساد پر فساد مچاتا چلا آرہا ہے۔۔۔آصفہ کے والد اس دوران’’ گمشدہ ‘‘ بیٹی کی تلاش میں دیوانہ ہورہاہے ،وہ سنجی رام کے پاس بھی آصفہ کا اتہ پتہ پوچھنے آتا ہے، اور یہ کہہ کر ٹالا جاتا ہے کہ اپنے کسی رشتہ دار کے ہاں گئی ہوگی۔ پُراسرار ’’گمشدگی ‘‘ کے اس المیہ سے گوجر کمیونٹی سراپا احتجاج ہو جاتی ہے لیکن قانون کا محافظ ہیرا نگر پولیس تھانہ پہلے ٹال مٹول کرتا ہے ،پھر کمیونٹی کے دباؤ میں FIR درج ہوتا ہے گر تلاش ندارد۔ تلاش ہوتی بھی کیونکراسی تھانے کا اسپیشل پولیس افسر دیپک کھجوریہ ہی اس جرم کا اہم کردار ہے۔ 16؍ جنوری کو اب ہوس کی آگ ٹھنڈی ہوکر اب دردندگی سے عبارت سازش کا دوسری قسط شروع ہوتی ہے۔ آصفہ کو نیم مردہ حالت میں جنگل میں لایا جاتاہے ، قبل ازیں کہ اس کا کاتمہ کیا جائے ایس پی او دیپک کھجوریہ آخری بار اپنا منہ کالا کر تاہے ۔اس کے بعد مظلومہ کے سر پر دو بھاری پتھر مارنیکی دیر ہوتی ہے کہ بچی ان درندوں سے آزاد ہوجاتی ہے۔ 17؍ جنوری کو آصفہ کی لاش جنگل میں مل جاتی ہے۔ با ت بڑھ جاتی ہے ، گجر بکروال آصفہ کے قتل پر خون آنسو بھی بہاتے ہیںا ور احتجاج بھی کر تے ہیں۔ بات بڑھ جاتی ہے ، اسمبلی میں بھی شور وغل مچ جاتا ہے، کشمیر کے اخبارات اپنا منصبی فرض انجام دیتے ہیں ، حریت آصفہ کے لئے ایک روزہ ماتمی ہڑتال کرواتی ہے ۔ سنجی رام بھانپ لیتا ہے کہ سچ اگل کر ہے گا ،وہ دوڑے دوڑے مقامی پولیس تھانے کو مبلغ4 ؍لاکھ کے عوض خر ید لیتا ہے جو اس گھناؤنی سازش کا حصہ بن جاتا ہے۔ پولیس کا انکوائری افسر حقائق کی چھان پھٹک کے بجائے وہ تمام ثبوت مٹانے کی کوشش کرتا ہے جو قاتل کی گردن دبوچ لیتے۔ عوامی سطح پر احتجاج بڑھ جاتا ہے، نتیجتاً معاملہ کرائم برانچ کو سونپ دیا جاتا ہے، بازی الٹی دیکھ کر زعفرانی عناصر ہندو ایکتا منچ کے نام سے قاتلوں کو بچانے کے لئے یہ بھاجپا حمایت یافتہ فورم تشکیل دے جاتے ہیں، منچ کی حمایت میں بی جے پی کابینہ سطح کے دو تیز طرار وزراء کو ڈپیوٹ کئے جاتے ہیں، ان میں ایک وہ بھی ہیں جس نے پہلے ہی کھلے عام مسلمانوں کو دھمکی دی تھی ''تم کیا 1947 بھول گئے؟''۔ چشم فلک یہ تماشہ بھی دیکھ رہی ہے کہ اب بی جے پی بھی آصفہ کے ماتم میں آگے آگے ہے ۔
آصفہ کا یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں، کس قدر نفرت بھر دی گئی ہے بے یار ومددگار مسلم کمیونٹی کے خلاف کہ ایک شخص اپنے بھتیجے کو آمادہ کرتا ہے کہ تمہیں میرے لکھے اسکرپٹ کا کردار نبھانا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس خونی کھیل سے اقلیتی مسلم گجر کمیونٹی میں خوف پیدا ہو تاکہ وہ وہاں سے بے دخل ہو جائیںاور پاپ کے لیے پوتر مندر کی جگہ منتخب ہو جاتی ہے۔ اس  واقعے کے پیچھے جو زہرناک متعصبانہ سیاست کار فرما تھی وہ دھیرے دھیرے سامنے آتی گئی۔پہلے ایک نوجوان لیڈر طالب حسین جو آصفہ کو ڈھونڈنے کے لیے احتجاج کی قیادت سنبھالے ہوئے تھا کو حراست میں لیا جاتا ہے، اسی اثناء میںپولیس کے دو اہلکار قتل میں ملوث مجرموں کو ننگا کر نے والے سارے ثبوت بھی مٹاڈالتے ہیں۔المیہ تو یہ ہے کہ کیس کرائم برانچ کے سپرد کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف مقامی ہندوؤں کو جمع کر کے کیس سی بی آئی کے سپرد کرنے کی مانگ منوانے کے لئے ترنگا لے کرایجی ٹیشن شروع کی جاتی ہے ۔ سیاسی دباؤ اور اخلاق باختہ و انسانیت سوز تماشے کے بیچ جب کرائم برانچ چارچ شیٹ دائر کرنے کھٹوعہ عدالت جاتی ہے تو سیاہ دل وکلاء اس کارروائی کو روکنے کی ناکام کوشش کرکے اپنے ماتھے پر بدنامی، تعصب اور قانون شکنی کا کلنک پوتنے سے نہیں چوکتے ۔اگلے دن جموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموں بند کال د یتا ہے جس کو بزوربازو عملانے کے باوجود جموں تاجران کی نمائندہ تنظیم چمبر آف ٹریڈاینڈکامرس سمیت دیگر ضلعی بار ایسوسی ایشنوں نے بند کال کی قطعی حمایت نہ کی، اس لئے ڈنڈے کے زور پر تین ا ضلاع میںبند کال کا کماحقہ اثر رہا۔  بہرحال آصفہ کے المیہ نے سنگھ پریوار کے جھنڈے تلے نفرت کی سیاست کا بھانڈا سر راہ پھوڑ دیا اور بھگتوں کا اصل انسان دشمن چہرہ پھر ایک بار عیاں کردیا ، اس نے’’ سب کا ساتھ مسلم کا وناش ‘‘ ایک زندہ حقیقت کی طرح اُجاگر کیا، اس نے قطبین کے ملاپ کو ستم رسیدہ ریاستی مسلمانوں کی محافظت نہیں بلکہ محض قصہ کرسی کا بناکر پیش کیا۔ مزیدبرآںغور طلب ہے کہ ا یک چھوٹی سی پھول چہرہ مسلمان بچی کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کرنے والوں کو کھلے عام سیاسی حمایت اور سر پرستی دی جا تی ہے وہ بھی صرف اس سرکاری عندیے کے باوجود کہ آصفہ کا تعلق جموں کی اُس مسلم کمیونٹی سے ہے جن کے تئیںبھارت کا ماننا ہے کہ اس نے کشمیر کاز کی کبھی حمایت نہیں کی بلکہ یہ لوگ دلی کے ازلی وفادار ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ سے آصفہ کے والدین اپنی بدنصیبی پر ڈپریشن کے شکار ہوگئے ہیں، جب کہ آصفہ کے بھائیوں کے لیے یہ بہن دنیا کا سب سے بہترین تحفہ تھا۔اس ننھی بچی کے انجام کا جو نقشہ کرائم برانچ کے چالان میں کھینچا گیا ہے وہ دور دل رکھنے والے انسان کو تڑپا کے رکھتاہے ، دل ملول و مضطرب ہیں، کلیجے پھٹ رہے ہیں، جگر پاش پاش ہو رہے ہیں ۔ جب یہ سوچتا ہوں تو دل بیٹھ جاتا ہے کہ مظلومہ کو جب مندر میں باندھ دیا گیا ہوگا، کس قدر وہشت زدہ ہوئی ہوگی وہ ننھی سی جان!!!،کیا بیتی ہوگی اس کلی کے معصوم دل پر ، کس قدرآہ وبکا کر کے اپنی ماں کو پکارا ہوگا، کتنی بار اس کی زبان’’ہائے ربا ‘‘ بے ساختہ نکلا گیا ، کتنے آنسو اس کے رُخساروں سے گزر کر زمین کو تر کر گئے ہوں گے ؟؟؟؟ چارج شیٹ سے  پتہ چلتا ہے کہ درد سے ننھی کلی بار بار آنکھیں کھولتی لیکن خواب آور گولیوں کے اثر سے چلا بھی نہ سکتی ، اندر ہی اندر قصور پاکستان کی زینب کی طرح ماہی ٔ بے آب کی مانند تڑپ رہی ہوتی کہ درندگی نے خوددرندگی سے سو بار پناہ مانگی ہوگی۔ یہ سوچ کردل وجگر چھلنی ہوجاتاہے۔اس المیہ کا اب عدل کے ایوان میں کیا ہوتا ہے ،اب زما نہ اس کا منتظر رہے گا ،البتہ آصفہ کی بے چین روح اپنے قاتلوں اور ان کے مددگاروں سے پوچھتی ہے کیا ملا تمہیں ایک ننھی سی جان لے کر سوائے ناکامی ورسوائی ؟ اس سانحہ عظیم نے جموں کے لوگوں کو بڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔انہیں آج انسانیت اور درندگی کے مابین جاری جنگ میں ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کس طرف ہیں: حق یا ناحق کی طرف۔ خدانخواستہ کہیں وہ نفرت وتعصب کی آگ میں جل کر تاریخ کا بدترین عنوان بن کر نہ رہ جائیں۔اُمید ہے کہ وہ انسانیت ، بالغ نظری اور انصاف پسندی کا ثبوت دیں گے اور ہر کھلے چھپے ظالم وجابر کی سازش کا مردانہ وار مقابلہ کریں گے۔
