پھول نہیں شُول

ہمکوئی کتاب اس لئے پڑھتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ لکھنے والا ہم سے کیا چاہتا ہے ۔اب یہ الگ بات ہے کہ آپ اُس کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں یا اختلاف ۔لکھنے والا بھی اپنی بات قاری پر ٹھونسنے یا اُسے حتمی یا جزوی طور ماننے کے لئے مجبور کرے ،ایسی کوئی بندش یا شرط کتاب کے مطالعہ کے ساتھ نہیں رکھی جاتی ۔آرٹ کے نام پر ایک آرٹسٹ برہنہ عورت کا ایک مجسمہ تراشتا ہے یا مائیکل انجلیو یا پیکا سو وغیرہ کی طرح برہنہ تصاویر کی تخلیق کرتا ہے تو دنیا اُسے فن کار اور اس کے کام کو فائین آرٹ کا نام دیتی ہے ۔ہندوستانی ’’پیر مغاں‘‘فدا حسین ایک مادر زاد ننگی جون لڑکی کو سیدھا یا اُلٹا لٹاکر اُس کے جسم پر نقوش و نگار بناتا ہے تو لوگ واہ واہ کرنے لگتے ہیں مگر عفت و عصمت کا دلدادہ اور شرم و حیا کا پروردہ اسے صریحاًبے حیائی اور بے شرمی کا نام دیتا ہے ۔اب فن کار اس بے حیائی کے ذریعے آپ سے کیا کہنا چاہتا ہے وہ تو وہی جانے مگر آپ اُس کے فن پارے کو گھر میں نہیں رکھ سکتے ،بہو بیٹی کو نہیں دکھا سکتے کیونکہ آپ کی تربیت اور نشو و نما ہی ایسے ماحول میں ہوئی ہوتی ہے جہاں شرم و حیا آپ کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے ۔اب بھلا وہ فائین آرٹ کیونکر ہوسکتا ہے جسے لوگوں کی نظروں سے چھپانا پڑے ؟البتہ چند گھرا یسے ہوسکتے ہیں جہاں بچوں کا پالن پوشن مغربی فیڈ اور بدیشی چمچوں کے ذریعے سے کیا جاتا ہے ،وہاں کے بچے وقت سے پہلے ہی بالغ ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے میں عریانیت اور جنسی بے راہ روی کو فیشن میں داخل سمجھا جاتا ہے اور عیب بھی نہیں مانا جاتا ۔اصل میں بات یہ ہے    ؎
دورِ جدید اصل میں دورِ قدیم ہے 
انسان چاہتا ہے وہی بے لباسیاں 
( زوار حسین زائرؔ)
بھارتی پراچین سماج میں سیکس یا جنسیات کی کافی اہمیت اور توجہ رہی ہے ،جو کہ بُری نہیں تھی اگر جنسی تعلیم اخلاقی حدود میں دی جاتی ہے تو اس کی اہمیت اور ضرورت ہے مگر مخطوطات اور پرانے گرنتھوں سے یہی اخذ ہوجاتا ہے کہ وہ پرانے لوگ جنسی پس ماندگی بلکہ بے راہ روی میں بہت آگے نکل چکے تھے اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اگرچہ سائنس اورٹیکنالوجی نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کیا ہے مگر سائنس نے انسان کے توارثی خلیے (Jene)میں کوئی تبدیلی نہیں لائی اور نہ کبھی ایسا ممکن ہوسکتا ہے کیونکہ خُو ،خصلت ِفطرت کا جُز ہے جسے نہ بدلا جاسکتا ہے اور نہ ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔اس بات کو بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے جب ہم پڑھتے یا سنتے ہیں کہ ہندوستا ن میں فلاں جگہ ، ریل میں ،گاڑی میں،کہیں بھی انتہا پسند شگالوں یا انفرادی حیثیت میں کسی خوک زادے نے کسی مسلمان لڑکی کو آبرو باختہ کیا تو مجھے دُکھ تو ہوتا ہے مگر حیرانگی بالکل نہیں ہوتی کیونکہ بے راہ اور بے شرم انسان میں وہ جینؔ صدیوں سے موجود چلا آرہا ہے اور اُسے ختم ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ مان لیجئے ایک باپ کے تین بیٹے ہیں ،دو درندہ صفت اپنی خصلت و جبلت پر ہیں جب کہ ایک شریف ہے مگر دوسری تیسری نسل میں اس شریف بیٹے کی اولاد پھر اپنی خصلت پر لوٹ کر آسکتی ہے، کیونکہ جین ؔتو بہر حال موجود رہتا ہی ہے ۔ عام مشاہدہ ہے کہ گاوٹ،بلڈپریشر ، شوگر جیسے امراض دوسری تیسری پیڑی کے بعد بھی اپنا سر پھر اُبھارتے ہیں۔
موجودہ وقتوں میں ہر گھر میں ٹی وی موجود ہے اور قارئین میں اکثر وں نے ہندوستانی دیو مالائوں پر مبنی ڈرامے اور فلمیں دیکھی ہوں گی اور یہ بھی ضرور مشاہدہ کیا ہوگا کہ عبادات میں مصروف و مشغول سادھو سنتوں کی تپسیا بھنگ کرنے کے لئے آسمانی دیوتا خود ہی سازشیں رچ کر عورتوں کے ذریعے اُن کی عبادت میں خلل ڈال کر انہیں اسیر زلف کروا چکے ہیںاور اسی جنسی بے راہ روی کی منہ بولتی تصویر وہ دیو داسیاں بھی ہیں جن کو مندروں میں رکھا جاتا ہے تاکہ بستی کے صاحبِ ثروت لوگ ، زمین دار ،حکومت کے کارندے اور پروہت اُن دیوداسیوں کو جنسی اختلاط کے لئے استعمال کرسکیں۔ایسے لائیسنڈ(Licened)چکلوں میں دیوداسیوں سے ہونے والے نرینہ اولاد کو مار ڈالا جاتا تھا اور لڑکیوں کو دیوداسیاں بننے کے لئے زندہ رکھا جاتا تھا مگر اب تو موجودہ وقتوں میں سائنسی ہتھکنڈے بروئے کار لائے جاتے ہیں ،اس بارے میں چند سال قبل مشہور انگریزی ہفتہ وار ’السٹرٹیڈ ویکلی آف انڈیا‘نے تصاویر کے ساتھ ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔
اختلا ف کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے ۔بقول حیدر علی آتشؔ  ع
  سفر ہے شرط مسافر نواز بُہیترے
 چند روپے خرچ کرکے مدھیہ پردیش ؔ کے کھجرا ہوؔ کے منادر آپ اس وقت بھی اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتیہیں جن کی دیواروں پر نبا حجری آرٹ دیکھ کر آپ کو لگے گا کہ جیسے منوں پانی آپ پر انڈیل دیا گیا ہو۔گھر کا کوئی اور فرد آپ کے ساتھ ہونے کی صورت میں آپ اپنے بال نوچیں گے کہ آپ نے ادھر جانے کا قصد کیا ہی کیوں تھا ۔بڑے بڑے کتب خانوں میں غیر اجرا ء شدہ کتب (Referance Books)میں کے ایم منشی کی تالیف شدہ کتاب اگر دیکھنے کا اتفاق ہوجائے تو دو تین صفحات دیکھنے کے بعد ہی آپ پر اختلاجِ قلب کا دورہ پڑنے کا احتمال ہے ۔اس لئے بزرگوں کے رچے راس ،وضع شدہ قانون جنسیات (کام سوُتر)اور اجسام میں موجود صدیوں پرانے جِین کی موجودگی میں انتہا پسند اورمتعصب مسلم دشمن فسطائی مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں ہی کریں گے ۔اس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ کیکٹس (ناگ پھنی) سے شُول ہی پیدا ہوں گے، پھول نہیں۔البتہ یہ خوش آئند بات اور حقیقت ہے کہ ہندوستان میں آج بھی سیکولر ذہن کے انسان دوست ہندوؔ باقی ہیں جن کی بدولت ابھی انسانیت کی پُروائیاں چلتی ہیں ،نہیں تو ظلمت کی آندھیوں کا گھور اندھیرا مکمل طور چھایا ہوتا اور بقول پروفیسر بلراج مدھوک یار لوگوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو سمندر بُرد کیا ہوتا     ؎
ہم نے ہنس ہنس کر تیری بزم میں اے پیکر ناز 
کتنی آہوں  کو  چھپایا ہے  تجھے کیا معلوم
مخدومؔ محی الدین
………………………
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او رینگر-190001،کشمیر
  موبائل نمبر:-9419475995