پکل ڈول پروجیکٹ معاملہ کو لیکر احتجاج اب کشتواڑ منتقل

کشتواڑ//مقامی نوجوانوں کو ضلع میں تعمیر ہورہے پن بجلی پاور پاوجیکٹوں میں روزگار فراہم کرنے کو لیکر گزشتہ 12روز سے دچھن کے ڈنگڈور میں احتجاج کررہی ضلع ترقیاتی کونسل چیئرپرسن پوجا  ٹھاکر نے احتجاج کے دوران کشتواڑ میں پریس کانفرس کے دوران ڈویژنل کمشنر پر کمپنی کی بات رکھنے و  کمپنیوں پر سرکار کے لئے کام کرنے کا الزام عائد کیا۔انھوں نے بتایا کہ ڈویژنل کمشنر جموں و اے ڈی جی پی کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں کوئی بات سامنے نہ آئی جبکہ حکام ہماری بات سننے نہیںبلکہ کمپنیوں کی طرفداری کرنے آئے تھے۔ان کاکہناتھا’’ہمیں لگتا تھا کہ کمپنیوں کے اندر جو من مانی ہورہی ہے اسے کمپنی کے لوگ کررہے ہیں لیکن میٹنگ سے صاف ظاہر ہوا کہ وہ بھی ضلع و ڈویژنل انتظامیہ کی کٹھ پتلی کے طور کام رہے ہیں‘‘۔ان کا کہناتھا’’ روزگار کو لیکر ا یک گھنٹے تک بات ہوئی لیکن ا سکا کوئی نتیجہ سامنے نہ آیا کہ کس طرح روزگاردیاجائے یا کتنے نوجوانوں کو کمپنیوں کے اندر لگایا جائے گا‘‘۔انھوں بے بتایا کہ وہ بارہ روز سے احتجاج کررہے ہیں لیکن اُن سے یہ تک نہ پوچھا گیا کہ آپ اپنا احتجاج ختم کریں۔ٹھاکر کا کہناتھا’’ انھوں نے ہمارے احتجاج کو سرسری لیاجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ نوجوان کو روزگار دیا جائے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔ہمارا احتجاج مسلسل جاری رہے گا جبکہ پروجیکٹ سے متاثرہ ہرکوئی شخص احتجاج کرے گا اور ہم انکے ساتھ ہیں۔ان کا کہناتھا’’ہمارا احتجاج ضلع بھر میں جاری رہے گا اور اگر ہمیں دہلی تک بھی جانا پڑے ہم اس کیلئے بھی تیار ہیںاور وہاں بھی احتجاج ہوگا ۔احتجاج میںچیئرپرسن کے ہمراہ وائس چیئرپرسن سایمہ لون، ڈی ڈی سی ممبر کشتواڑ ،ڈی ڈی سی ممبر پلماڑ ، ڈی ڈی سی ممبر ناگسینی شامل تھے جبکہ سابق وزیر مملکت سجاد احمد کچلو و سرپنچوں نے بھی شمولیت اختیار کی۔