پکل ڈول پروجیکٹ تعمیر کررہی کمپنی کے خلاف ڈنگڈورو میں احتجاج | اگر رویہ تبدیل نہ کیا گیا تو بھوک ہڑتال کی جائے گی: ڈی ڈی سی چیئرپرسن

کشتواڑ//ضلع ترقیاتی کونسل چیئرپرسن و ڈی ڈی سی ممبر دچھن پوجھا بھنڈاری نے پکل ڈول پن بجلی پاورپروجیکٹ تعمیرکررہی کمپنی کے خلاف ڈ نگڈورومیں ڈیم سائٹ پر احتجاج کیا۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جن مقامی لوگوں نے اپنی زمین پاور پروجیکٹ میں کھوئی ہے انھیں کمپنی لگاہی نہیں رہی ہے، اگرچہ لوگوں کو کمپنی میں روزگار دے رہی لیکن زمین کھوئے افراد اسے محروم ہیں اور دوسرے لوگوں کو کمپنی میں لگایا جارہا ہے ۔انھوں نے کہا کہ وہ یہاں کی مقامی ڈی ڈی سی ممبر ہے جبکہ انھیں ان غریب عوام کی مشکلات کا بخوبی علم ہے جہاں انھوں نے اپنے گھر زمینیں کھوئی ہیں اور جو بھی آواز اٹھاتا ہے، اس کے خلاف پولیس ایف آئی آر درج کرتی ہے اور کوئی بھی اپنی اواز اٹھائے اسے دھمکیاں دی جاتی ہیں لیکن اب وہ کسی سے ڈرنے والی نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ آر آر پلان ابھی تک نہیں دئے گئے جہاں پہلے تعینات اے ڈی سی نے فایل و دیگر کاروائی مکمل کی تھی لیکن نئے اے ڈی سی دوبارہ سے آکر اسے دیکھنا چاہتے ہیں جسے یہ لگتا ہے کہ وہ انکے کام پر شک کرہے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ عوام کب تک انکا انتظار کرے گی  جبکہ بلاسٹنگ کے دوران انکے گھر تباہ ہورہے ہیں اور وہ گھروں میں کھانا بھی چین سے نہیں کھاسکتے۔جبکہ انکے بچے و عورتیں ڈری ہوئی ہوتی ہیںلیکن انکا کو ئی پرسان حال نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ اگر ضلع ترقیاتی کمشنر سے بات کی جاتی ہے تو وہ کمپنی کے افسران سے بات کرنے کو کہتے ہیں جبکہ کمپنی کے افسران ضلع ترقیاتی کمشنر سے بات کرنے کو کہتے ہیں،بطور چیرپرسن مجھے لگ رہا تھا کہ مجھے دئے گئے پروڈوکول کے تحت میں کچھ کرسکتی ہو لیکن چار ماہ کا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی مجھے لگا کہ انتظامیہ و کمپنی کے درمیان کوئی ملی بھگت چل رہی ہے جبکہ میںمسلسل انتظامیہ و کمپنی کے ساتھ بات کرتی رہی لیکن میری کوئی بات نہیں سن رہا۔جسکے بعد میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوئی ۔انھوں نے اگرچہ اسے قبل بھی لیفٹیننٹ گورنر، چیف سیکریٹری و ڈویژنل کمشنر سے بات کی لیکن اسکے باوجود بھی کوئی بات نہیں سنی جارہی ہے اور وہ مجبور ہوکر ڈ نگڈورو میں احتجاج پر بیٹھ گئی اور اگر انکے مطالبات کو حل نہ کیا گیا تو یہ ہڑتال ضلع میں جاری دیگر سبھی پاور پروجیکٹوں میں کی جائے گی اور اگر بات نہ بنی تو بھوک ہڑتال کی جائے گی ۔ان کا کہناتھا کہ اگرچہ انھیں زبانی بتایا جاتا ہے لیکن جب تک نہ انھیں لکھ کر دیا جائے گا تب تک احتجاج جاری رہے گا۔