پڑئیے گربیمارتو افسانہ

ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی

کوہلوکے بیل کی طرح صبح سے شام تک وہی روزکا معمول کاکام کرتے کرتے تھک ساگیاتھا۔ اس لئے سوچاکہ کیوںنہ سردرد اوربخارکابہانہ بناکر ایک دودن کی چھٹی لے کرتھوڑاساآرام کرلوں۔پھرایک دن میںدفترسے گھنٹہ بھرپہلے ہی گھرچلاآیا۔گھرکے اندرداخل ہوتے ہی میںنے اپناچہرہ کچھ اس طرح بنایاکہ جیسے میں زبردست بیمارہوں اورکمزوری کی وجہ سے چلابھی نہ جارہا ہے۔ بیوی نے پوچھاکہ کیابات ہے۔آج دفترسے جلدی کیوں چلے آئے۔ آج تک توکبھی بھی ایسانہ کیا۔طبیعت توٹھیک ہے ناآپ کی ؟’’مجھے شدید سردرد اوربخار ہے۔سارابدن ٹوٹ رہاہے۔ دفترکے سبھی لوگوںنے میری حالت دیکھ کر گھرآنے کے لئے مجبورکیا‘‘۔میں نے جواباً کہا۔میری اس بات سے بیوی کو کافی تشویش ہوگئی۔اس نے مجھے بسترپرآرام کرنے کے لئے کہا اور جھٹ سے سردردکی ٹکی اورگرم چائے لاکردی اورساتھ ہی ایک جان پہچان کے ڈاکٹر صاحب کوفون کرکے میرے ملاحظے کے لئے بلایا۔وہ باربارمیرا اُترا ہوا چہرہ دیکھ کر فکرمند ہورہی تھی۔آخرکیوں نہ ہوتی۔ میںنے ایکٹنگ ہی ایسی کی تھی ۔ بیوی کی ہمدردی دیکھ کرمیں نے شدید بیماری کاڈرامہ کرکے ہمدردی بٹورنے کی کوشش کی ۔
اسی وقت میری چھوٹی بہن بھی کمرے میں آئی۔ مجھے لیٹاہوادیکھ کر پوچھ بیٹھی ۔’’بھیا کیاہوا؟آپ کاچہرہ اُتراہواکیوں ہے؟میں روزکہتی ہوںکہ اتنا کام مت کرو۔اپنی صحت کاخیال رکھو۔سرکاری کام چلتے رہتے ہیں۔ مگرکوئی مانے تب نہ ‘‘۔
اس اضافی ہمدردی کوپاکرمیں اورزیادہ دیوداس فلم کادلیپ کماربن گیا۔ بہن نے میرے سرپرٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھیں۔سردبایا، شربت پینے کو کہا۔ اس پرمیںنے اورمزیدفلموں کے ڈائیلاگ بولنے شروع کئے ۔جیسے کہ میری ٹانگوں میں جان ہی نہیں ہے دل گھبرارہاہے۔سانس اُکھڑسی رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ’’بھابھی! بھیا کاخاص خیال رکھنا۔ میں گھرمیں بچوں کوکھاناکھلاکر آتی ہوں۔ پھرآج رات ادھرہی رہوںگی۔ بھیا کی طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب ہے۔‘‘تقریباً ایک گھنٹہ بعدجب ہمشیرہ واپس آئی تواس کے ساتھ اس کے میاں بھی تھے۔ٹیوشن ختم کرنے کے بعددونوں بچے بھی آگئے اورگھرمیں کافی رونق ہوگئی۔میںتوبہت خوش ہوا۔ مگرمیری بیوی نجمہ کی حالت دیدنی تھی۔ میری اچھی طرح خاطر تواضع ہونے لگی۔ میںنے اپنی بیماری کاسوانگ چالورکھا۔ باتھ روم جاتے وقت اُٹھتے بیٹھتے سرکے چکرانے کی اداکاری دکھائی ۔ ذراسنبھلاتو چکرکی وجہ سے گرجانے کی ایکٹنگ کی۔اس پرنجمہ ہمشیرہ اوربہنوئی سب پریشان ہوگئے۔ بہنوئی نے مجھے گرنے سے بچانے کے لئے تھامنے کی ہمدردانہ کوشش کی ۔
اداکاری کایہ سین بہت کامیاب رہا۔بس! پھرکیاتھا۔چکن سوپ تیار ہونے لگا۔تازہ پھلوں کارس نچوڑاجانے لگا۔ سرپرخالص سرسوں کے تیل کی مالش شروع ہوئی۔ خیرخیریت پوچھنے والے ایک شخص نے ٹانگوں کی مالش کئے جانے کی تجویز کی۔ اس کے اس مشورے پرمیں اورزیادہ خوش ہوا۔کیونکہ مالش کروانا، میراسب سے پسندیدہ مشغلہ رہاہے۔ اتنے میں دروازے پردستک ہوئی ۔ جب اس پرکسی نے توجہ نہ دی تووہ شخص سیدھاہی اندرداخل ہوا۔ بولا۔ ’’کیابات ہے؟‘‘ آج تک توکبھی ایسانہ ہواکہ دستک دی ہواورکوئی استقبال کرنے کے لئے دروازے پرنہ آیاہو۔ اسی لئے میں سیدھے ہی اندرچلاآیا۔ سوچاکہ ضرورکوئی بات ہوئی ہے۔اسی لئے کوئی اندرسے باہرنہ آیاہے۔ارے ! کیابات ہے؟آپ اورپلنگ پراس طرح لیٹے ہوئے۔ دومتضاد چیزیں ، طبیعت توٹھیک ہے نا؟ ڈاکٹر کوبُلالاؤں ۔سچ مانوتوآپ اپنی صحت کابالکل ہی خیال نہیں رکھتے‘‘اس پرنجمہ نے کہا’’ابھی ابھی ڈاکٹر صاحب آئے تھے ۔ انہوںنے دوائیاں لکھ کردی ہیں۔پرہیز بھی بتایاہے۔مزید آرام کرنے کوکہاہے‘‘۔اس ڈاکٹرکی ایسی کی تیسی ۔وہ ڈاکٹر کم گدھازیادہ ہے‘‘دراصل اس کوپتہ ہی نہ چلاکہ آیامیں سچ مچ بیمارہوں یامیںنے بیمارہونے کابہانہ بنایاہے۔وہ اتنی دیرتک میراملاحظہ کرتا رہا۔اس کو خاک پتہ چلاکہ اصل بات کیاہے۔نہ جانے اسے کس نے ڈاکٹر بنایاہے؟ میںنے دل ہی دل میں کہا۔ڈاکٹر نے اگرچہ بظاہر اپنی اُنگلیاں میری نبض پررکھی ہوئی تھیں۔مگراس کی ساری توجہ میرے محلہ کی اس لڑکی پرمرکوز تھی جو میری بیماری کاسن کرخبر گیری کرنے آئی تھی۔اپنی جانب ڈاکٹرکی دلچسپی دیکھ کروہ بے چاری شرم کے مارے پانی پانی ہورہی تھی۔
دوسری صبح ہوئی تودفترسے فون آنے شروع ہوگئے۔ میرے اسسٹنٹ نے کہا!’’کیابات ہے ابھی طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی۔ سچ یہ ہے کہ آپ کے بغیر سارے کام ٹھپ ہوگئے ہیں۔دفتر کی رونق بھی پھیکی پڑگئی ہے‘‘۔’’یار! آپ کودفترکے کام کی اوررونق کی پڑی ہے۔اِدھرمیں مراجارہاہوں‘‘۔میںنے جواب دیا۔دفتراورجان پہچان والوںکے فون مسلسل آنے لگے اوراب میرے بجائے انہیں میری بیوی نجمہ ریسیو کرنے لگی، جس کی وجہ سے لوگوںکومیری بیماری کی شدت کاپتہ چل گیا۔اب کیاتھا، چار بجنے کی دیر تھی کہ سبھی افسروں اورماتحت ملازموں نے خبرگیری کے لئے آدھمکنا شروع کیا۔اب سبھی حضرات اکٹھے گھرآتے تومیں اورنجمہ سب بہ یک وقت مخاطب ہوتے اوربیماری کی رُودادسُناتے ۔یوں خیروعافیت دریافت کرنے والوں کاتانتاشام سات بجے تک بندھا رہااورہم دونوں بیماری کاکیسٹ ریوائنیڈ کرتے کرتے تھک گئے۔ رات گئے تک وہ آنے والوں کوچائے بسکٹ اورجوس پلاتے پلاتے نڈھال ہوگئی تھی۔ میری بیماری کاحال باربار بیان کرنے سے اس کاگلابھی بیٹھ گیا۔ہرکسی کوایک ہی داستان سنانااورپھران کی بے ہودہ تجاویز سننا۔چائے اور بسکٹ کھلاکران کو دروازے تک رخصت کرنے کے لئے جانا۔یہ سلسلہ برابر تین روزتک چلتارہا۔میرے بجٹ کاکباڑاہوگیا۔ مہینے کی تنخواہ صرف ان تین دونوں میں ہی ختم ہوگئی۔ اتنی دوڑدھوپ کرتے کرتے نجمہ کی کمر میں اب دردبھی ہونے لگاتھااوراسے بیٹھے بیٹھے ہی نیندکے جھونکے بھی آنے لگے ۔
میری بہن تواپنے گھرچلی گئی کیونکہ اس کے بچوںکے امتحان تھے اوراب وہ صرف فون پر خیریت پوچھتی رہتی تھی۔محلہ داروںنے دیکھاکہ دراصل صاحب کچھ زیادہ ہی بیمارہے،اسی لئے اتنے لوگ آجارہے ہیں۔ اب انہوںنے بھی مزاج پرسی کاسلسلہ شروع کیا۔دفترکے لوگوں کے ساتھ ساتھ اب ان سے بھی نپٹناشروع ہوا۔اہلیہ بے چاری نڈھال ہوگئی۔ اس نے کہاکہ آپ کی بیماری نے تومجھے مارہی دیاہے۔کل آپ کسی طرح، چاہے آپ ٹھیک ہوںیانہ ہوں، اگر دفتر نہیں توچھوٹی بہن کے گھرہی چلے جائیں۔اس طرح میںذراسنبھل پاؤں گی۔ پھرجوکوئی پوچھنے آئے گاتو میںان سے کہوںگی کہ وہ دفترچلے گئے ہیں۔ اس پرمیںنے بھی کہاکہ ہاںلیٹے لیٹے میں بھی تنگ آ گیا ہوں۔ چنانچہ میں نے رضائی پھینکی ۔ہاتھ منہ دھویااورآہستہ آہستہ دیوارکا سہارا لیتے ہوئے باہرنکلا۔ ڈرائیورکوکہاکہ مجھے بہن کے گھرپہنچادو۔شام تک وہاں ہی رہا۔دوسرے روز دفترمیںحاضرہوا۔اس طرح محلہ والوں کاآناجانابھی بند ہوگیا۔ انہوںنے سوچاکہ صاحب اب صحت یاب ہوگیاہے۔
میںنے اپنے من میںتوبہ کی کہ اب کبھی بھی بیماری کابہانہ نہیں بناؤں گا۔ نجمہ نے بولاکہ بیمارپڑناتوٹھیک تھامگران بن بلائے مہمانوں سے نپٹنابڑاہی کٹھن کام ہے ۔اللہ بچائے ان سے وہ توعجیب عجیب تجاویزدیتے تھے۔ عجیب سوال پوچھتے تھے اورجھوٹی ہمدردی دکھاتے تھے ۔کبھی کبھی توان کے یاردوست بارباراس لئے آتے تھے کہ چلواسی بہانے چائے وائے پئیں گے۔وہ یہ بھی صلاح دیتے تھے کہ آپ اگراس دفترسے کہیں اور تبادلہ کروالیتے توبہتر تھا کیونکہ یہاں بہت کام ہے ۔ اسی لئے آپ کی صحت گررہی ہے۔میںان کا مطلب خوب سمجھتاتھا۔وہ تو اپنے ہی ایک اورافسردوست کومیری کرسی پر دیکھنا چاہتے تھے کیونکہ اس افسر دوست نے ایک دن مجھ سے پوچھا کیا آپ کو بھوک لگتی ہے؟ کیاآپ کو صاف صاف دکھائی دیتاہے؟ کیاآپ ہرآنے والے کو پہچانتے ہیں ؟ کیاآپ کی زبان کاذائقہ بدل رہاہے؟ کیا قے کرنے کوجی کررہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ ۔میںنے اندرہی اندراس سے کہاکہ میں سب سمجھتاہوںکہ آپ ایسے اُلٹے سیدھے سوال کیوںپوچھ رہے ہو۔
میںنے اس جھوٹی بیماری کابہانہ بناکرآرام توضرور کیا۔بیوی کی ہمدردی کاامتحان بھی لیا۔اپنوں پرائیوں کی پہچان بھی کی۔ مگرنجمہ بے چاری تھک کرچور ہوگئی۔ پورے مہینے کابجٹ بھی چوپٹ ہوگیا۔سچ ہے کہ جھوٹ کے نقصان ہی نقصان ہوتے ہیں۔آئندہ حیلے ،بہانے اورجھوٹ سے میںنے توبہ کرلی۔ میری بیوی کوآج تک اس جھوٹی بیماری کاپتہ نہیں چلاہے۔اگرپتہ چل جاتاتو محبت اوراعتماد کے شیشے میں ہمیشہ کے لئے دراڑ پڑ گئی ہوتی۔
���
جموں، حال ہمہامہ کشمیر
موبائل نمبرات؛8825051001,9906111091