پٹوار ایسوسی ایشن کی ہڑتال 24ویں روز بھی جاری

ڈوڈہ//آل جموں کشمیر پٹوار ایسوسی ایشن کی طرف سے اپنے مطالبات کے حق میں جاری کام چھوڑ ہڑتال کے چوبیسویں روز ڈوڈہ میں جاری رہی جس وجہ سے عام لوگوں کو زبر دست مشکلات کا بھی سامنا ہے۔احتجاجی دھرنا پر بیٹھے پٹواریوں نے اپنے مطالبات کو لے کر شدید نعرہ بازی کی ۔ایسو سی ایشن کے صدر ضلع ڈوڈہ ریاض احمد لون مرکزی مجلس عاملہ کے رکن شبیر احمد لون صدر تحصیل ڈوڈہ شوکت حُسین فلاحی سیکریٹری تحصیل طارق حُسین ، شکیل احمد شنالی ، محمد اکبر بٹ، جسونت سنگھ تعظیم حمید آخون طاہر نقاش،مرزا اسلم بیگ نے خطاب کے دوران کہا کہ ہمارے جو بھی مطالبات ہیں وہ صرف ہمارے نہیں ہیں بلکہ ان سے براہ راست عوامی مفاد جڑا ہے اور حکومت کے تسلیم شُدہ ہیں ۔مقررین نے کہا کہ پٹواری چونکہ گریجویٹ ہوتا ہے اس لئے اس کے لئے دیگر محکموں میں گریجویٹ ملازمین کا گریڈ ہونا چاہئے جس کو گھٹایا گیا ہے اسی طرح راست طور نائب تحصیلداروں کی بھرتی سے محکمہ کو کئی مسائل درپیش آتے ہیں۔ اس لئے راست نائب تحصیلداروںکی تعینات کا نظام ختم ہو اور جلد سے جلد نئے پٹوار حلقوں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ کام میں آسانی ہو اور لوگوں کو فائدہ مل سکے۔ پٹوار خانوں کی تعمیر تک اور نجی مکانات میں چلائے جانے والے پٹوار خانوں کو مطابق مارکیٹ ریٹ کرایہ دیا جائے اور محکمہ جاتی ترقیوں کو وقت مقرر پر دینے کے لئے مضبوط ضابطہ اخلاق و قانون بنایا جائے اور پٹواریوں کو سائل خرچہ میں اضافہ ہو کہ موجودہ 110روپے انتہائی ناکافی اور مذاق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جاتی شکایتی سیل کا قیام اور جموں و سری نگر میں ایسوسیشن کو دفتر کمرہ ہال فراہم کیا جائے اور اگر یہ مطالبات جلد سے جلد تسلیم نہ ہوئے احتجاجی ہڑتال جاری رہے گی۔اُنہوں نے کہا کہ اس وقت کئی جگہوں پر ایک پٹوار حلقہ دو تحصیلوں میں آتا ہے جس وجہ سے ایک پٹواری کے اوپر دو تحصیلدار دو نائب تحصیلدار ایک گرداور موجود ہیں اور اس طرح سے ایک پٹواری کو ایک ہی وقت میں پانچ آفیسروں کے ما تحت کام کرنا پڑتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ڈوڈہ ضلع میں ہی ایک گرداور 37 گاؤں پر انچارج ہے جو کہ تین تحصیلوں میں آتا ہے اس طر ح سے اس گرداور کو تین تحصیلداروں اور سات نائب تحصیلداروں کے ماتحت کام کرنا پڑ رہا ہے۔ اور ایسے حالات میں مشکلات اور مسائل عوام کے حصہ میں آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پہلے دن ہی یہ بات کہتے آئے ہیں کہ ہمارے تحریک جو ہے اُس میں خالی پٹواریوں یا گرداوروں کے مفادات ہی نہیں بلکہ عام آدمی کا مفا دہے۔ اگر آج سے 80برس قبل  غیر منقسم جموں کشمیر محض 08اضلاع پر مشتمل تھا تو آج ان اضلاع کی تعداد 35کے قریب ہے۔ اسی طرح تحصیلیں دس گناہ زیادہ بنائی گئی ہیں۔ مگر پٹوار حلقوں میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی جو کہ انتظامیہ کا بنیادی یونٹ ہے۔ اور اب کی بار تسلیم شُدہ مطالبات پورا ہونے تک واپس پلٹنے کا کوئی امکان ہی موجود نہ ہے۔