پٹن کے کئی دیہات اوردہرنہ ڈورو میں پینے کے پانی کی قلت

 بارہمولہ+اننت ناگ// شمالی قصبہ پٹن کے متعدد دیہات میں پینے کے صاف پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کو مختلف مسائل کا سامناہے ۔ گنڈ خواجہ قاسم ، وانی گام ، تلہ گام اور سنگھ پورہ کے کئی دیہات میں رہائش پذیر لوگوں نے جل شکتی محکمہ پر الزام عائد کر تے ہوئے بتا یا کہ محکمہ ہذا کے متعلقہ افسران کی عدم توجہی سے پانی کی سپلائی بُری طرح سے متاثر ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگ پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترس رہے ہیں ۔ ایک مقامی شہری نثار احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ اگر چہ سرکار نے کئی سال قبل متعدد واٹر سپلائی اسکیموں پر کام شروع کیا تھا لیکن ستم ظریفی ہے کہ ابھی تک وہ تشنہ ٔتکمیل ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار متعلقہ محکمہ کو اس مسئلہ سے آگاہ کیالیکن انہوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔ مقامی لوگوںنے گورنر انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کیلئے اقدامات کریں۔دہرنہ ڈورو میں پینے کے پانی کی قلت سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ڈورو سے 5کلو میٹر دو ر آباد دہرنہ نامی گائوں میں گذشتہ کئی ہفتوں سے پانی کی سپلائی نہ ہونے کے برابر ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اُنہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔روف احمد راتھر نامی ایک نوجوان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گائوں کو ایک چھوٹی سے نہر سے پانی فراہم کیا جاتا ہے جو ناقابل استعمال ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ کئی بار معاملہ جل شکتی محکمہ کی نوٹس میں لایا گیا لیکن کوئی کارروائی نہ ہوئی اور اب گائوں گذشتہ دو ہفتوں سے پینے کے پانی سے محروم ہے ۔انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ گائوں کو صاف و شفاف پانی فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔
 
 

جل شکتی محکمہ کے کیجول ملازمین کی ہڑتال

ٹنگمرگ میں عوام کو پانی کی قلت کا سامنا 

ٹنگمرگ/ مشتاق الحسن/سب ڈویژن ٹنگمرگ میں جل شکتی محکمہ کے کیجول ملازمین کی طرف سے شروع کی گئی48 گھنٹوں کی کام چھوڑ ہڑتال کے پہلے روز 1لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی کو پینے کے پانی سے محروم ہونا پڑا۔ جل شکتی محکمہ کے کیجول ملازمین ، نیڈ بیس اور ڈیلی ویجروں نے ان کے مسائل گزشتہ 20  برسوں کے دوران پورا نہ کرنے پر 48 گھنٹے کی کام چھوڑ ہڑتال کرکے تمام سپلائی لائنوں کو بلاک کیا جس کی وجہ سے دن بھر سب ڈویژن ٹنگمرگ میں پانی کی سپلائی بند رہی اور لوگوں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔