پٹن کے ڈرائیور کی پُر اسرار ہلاکت

بارہمولہ // ماموسہ پٹن کے لوگوں نے جان محمد نامی ایک نوجوان ڈرائیور کے پُراسرار قتل میں ملوث افراد کو گرفتار نہ کرنے کے خلاف سرینگر مظفر آباد شاہراہ پراحتجاجی مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں شاہراہ پر تین گھنٹوں تک ٹریفک کی نقل و حمل مسدود ہوکر رہ گئی ۔یاد رہے کہ   30سالہ جان محمد بٹ ولد اسد اللہ بٹ ساکن ماموسہ پٹن 22مارچ کو گھر سے نکلا لیکن واپس نہیں لوٹا ۔ جس کے بعداگر چہ لواحقین نے   ہرممکن جگہ اُسے تلاش کیا لیکن اُس کا کہیں کوئی اتہ پتہ نہیں چل سکا ۔مذکورہ نوجوان کے لواحقین نے پولیس اسٹیشن پٹن میں ایک گمشدگی رپورٹ درج کرائی تھی جس کے بعد  مذ کورہ نوجوان کی لاش کو4 اپریل پٹن میں ایک نالہ سے برآ مد کیا گیا تھا۔ احتجاجی مظاہرین میں شامل جان محمد کے رشتہ داروں نے کہا کہ اگر چہ پولیس نے اس معاملے میں گیارہ روز قبل قتل کیس بھی درج کیا ہے تاہم ابھی تک ملوثین کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ مظا ہرین جان محمد کے قاتلوں کو پیش کرو جیسے نعرے بلند کررہے تھے اور انصاف کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس دوران پولیس اور انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد لوگوں نے اپنا احتجاج ختم کیا۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی بارہمولہ عبدالقیوم نے بتایا کہ پولیس نے اس سلسلے میں پہلے ہی کچھ افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے گرفتار کیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اُمید ہے کہ مجرموں کو جلد ہی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے گا ۔