پٹن میں سب ضلع اسپتال کی منتقلی کیخلاف احتجاج

بارہمولہ // شمالی قصبہ پٹن میں جمعہ کو لوگوں اور تاجروں نے سب ضلع اسپتال کی منتقلی اور بلاک میڈیکل آ فیسرکے تبادلے کے مطالبے کو لیکر احتجاجی دھرنا دیا جس کے سبب تجارتی سرگر میاں ٹھپ رہیں ۔ ٹریڈرس فیڈریشن پٹن کی کال پر پٹن میں جمعہ کو تمام دکانیں ،کاروباری اداروں اور تجارتی مراکز میں تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں تاہم سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر ٹریفک کی روانی جاری تھی۔ احتجاج کے دوران مقامی تاجر اور سیول سوسائٹی پٹن کے اراکین سرینگر ۔مظفر آباد شاہراہ پر جمع ہوئے جہاں انہوں نے بلاک میڈیکل آ فیسرکے تبا دلے کولیکر زور دار ا حتجاج کیا ہے۔ ٹر یڈروںنے کہا کہ مذ کورہ بلاک میڈکل آفیسر سیاستدانوں کے اشاروں پر کام کررہا ہے جس کی وجہ سے قصبہ میں محکمہ صحت کا سارا نظام مفلوج ہو کے رہ گیاہے۔ ٹریڈرس یونین کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹراما اسپتال کی تعمیر کامقصد سرینگر ،مظفر آباد شاہراہ پر حادثات میں زخمی ہونے والے لوگوں کا علاج معالجہ کرانا تھا لیکن یہاں سب ضلعی اسپتال کو منتقل کرنا ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ تاجروں کا مطالبہ تھا کہ سب ضلعی اسپتال کیلئے الگ نگراںمقررر کیا جائے اور اس کو ٹراما اسپتال سے علیحد ہ کیا جانا چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ یہاں موجود سب ضلع اسپتال کو ٹراما اسپتال میں ضم کیا جارہا ہے۔ تاجروں نے مانگ کہ سب ضلع اسپتال ماضی کی طرح اپنی ہی جگہ کام کرنا چاہئے کیونکہ یہ اسپتال دہا ئی پہلے تعمیر ہواتھا اور یہاں مریضوں کی آ سان رسائی ہے۔انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد تاجروں نے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کرنے کی کال واپس لی۔ اس سلسلے میں بی ایم او پٹن ڈاکٹر مسرت اقبال نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ دراصل یہ کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کیلئے عوام کو بھڑکا رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹرما اسپتال اپنی جگہ کام کرہا ہے اور سب ضلع اسپتال اپنی جگہ کام کررہا ہے ۔