پٹن اور گاندربل کے کئی دیہات میںپینے کے پانی کی قلت

بارہمولہ+گاندربل//ضلع بارہمولہ کے شمالی قصبہ پٹن کے بیشتر دیہات پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو سخت مشکلات درپیش ہیں ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے ان ایام میں بھی پینے کی پانی کی قلت سے لوگوں میں ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔ وانی گام بالا ، ہامرے ، چک جمال اورگنائی پورہ کے علاوہ سنگھ پورہ کے کئی دیہات کے لوگوں نے جل شکتی محکمہ کی غفلت شعاری اور لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ محکمہ ہذا کے متعلقہ افسران کی عدم توجہی سے پانی کی سپلائی بُری طرح سے متاثر ہوتی ہے جس سے مقامی لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔لوگوں کے مطابق جل شکتی محکمہ کی طرف سے اگرچہ کئی سکیموں پرکام شروع کیا گیا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر اُس کام کو ادھورا رکھا گیا ہے جس سے ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی کوپینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی جگہوں پر پہلے ہی واٹر سپلائی سکیمیں موجود ہے لیکن پایپیں زنگ آلودہ ہوچکی ہیں جبکہ محکمہ جل شکتی کی طرف سے چند برس قبل کئی اسکیموں پر کام شروع کیا گیا اور پایپیں بھی بچھائی گئیں لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر پانی کی سپلائی فراہم نہیں کی جاتی ہے ۔ انہو ں نے کہا ہے کہ اگر لوگوں نے کئی مرتبہ متعلقہ محکمہ کے ملازمین کو اس معاملے میں مطلع کیا تھا تاہم کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے فوری طور پر مداخت کی اپیل کی ۔ادھرگاندربل کے علاقہ وندہامہ غوثیہ کالونی میں پچھلے ایک ہفتہ سے پینے کے صاف پانی کی قلت سے مکینوں کو طویل مسافت طے کرکے پانی حاصل کرنا پڑتاہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ پچھلے ایک ہفتے سے پورے علاقے میں پانی کی قلت ہے ۔مقامی شہری رفیع احمد قریشی نے بتایا کہ پچھلے ایک ہفتے سے پینے کے پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقامی لوگوں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا’’ہم نے جل شکتی محکمہ کے حکام سے اس اہم معاملے کی جانب توجہ مبذول کرائی لیکن ہفتہ گزرنے کے باوجود بھی پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہوسکی‘‘۔لوگوںنے ڈپٹی کمشنر گاندربل اور جل شکتی محکمہ کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کوحل کرنے کیلئے اقدامات کریں۔
 
 
 

آگنو ڈورو واٹر سپلائی اسکیم برسوں سے تشنۂ تکمیل

عارف بلوچ
اننت ناگ// ضلع اننت ناگ کے آگنو ڈورو شاہ آباد میں کئی برس قبل واٹر سپلائی اسکیم پر کام شروع کیا گیا جس پر لاکھوں روپئے خرچ کئے گئے لیکن ابھی تک یہ واٹر سپلائی اسکیم تشنۂ تکمیل ہے جس کی وجہ سے علاقے کی وسیع آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ سال 2012 میں جل شکتی محکمہ نے آگنو واٹر سپلائی اسکیم پر کام شروع کیا جس کے بعد سال 2017میں اس وقت کے وزیر مملکت نے اس کا سنگ بنیاد ڈالا اور اعلان کیا کہ اسکیم مقررہ وقت میں مکمل کی جائے گی۔ایک کرورڈ روپئے خرچ ہونے کے باوجود بھی اسکیم کا کام مکمل نہیں ہوا ہے ۔میکنیکل محکمہ کی جانب سے اسکیم کے لئے درکار ٹرانسفارمر و دیگر سازوسامان نصب کیا گیا ہے تاہم محکمہ جل شکتی کی طرف سے اسکیم چالو ہونے میں رکاوٹ آرہی ہے۔مقامی شہری محمد شفیع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کئی برس قبل اسکیم پرکام شروع کیا گیا چونکہ علاقے میں بڑے پیمانے پر پینے کے پانی کے مسائل سے لوگ دوچار ہیں تو اس وقت ایک امید کے طور اس اسکیم کو دیکھا جارہا تھا اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ اب علاقے میں پانی کا مسئلہ حل ہوگا تاہم آج جبکہ قریباً 10سال بیت گئے لیکن مذکورہ واٹر سپلائی سکیم مکمل نہیں ہوئی -حالانکہ اسکیم کا کام  90 فیصد تک مکمل ہے اور 10 فیصد ادھورا رہنے کے باعث وسیع آبادی آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ  اس سلسلے میں کئی بار متعلقہ محکمہ کو مطلع کیا گیا تاہم لوگوں کے مطالبات کا کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا جارہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق اگر چہ سرکاری خزانہ سے رقومات کوواگزار کیا جاچکا ہے لیکن کام ابھی بھی مکمل نہیں ہوپایا ہے۔ لوگوں نے ایل جی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا کہ اسکیم کو مکمل کرانے کیلئے اقدامات کئے جائیںتاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے نجات مل سکے۔ اس سلسلے میں جل شکتی محکمہ کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو افسر کا کہنا ہے کہ اسکیم 90فیصد مکمل ہوچکاہے اور اسکیم چالو کرنے کے لئے مزید پائپوں کی ضرورت ہے جو فی الوقت اسٹور میں نہیں ہیں اورجونہی پایپیں مل جائیں گی رکا پڑا کام شروع کیا جائے گا۔