پوگل پرستان کے علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی

بانہال//ضلع رام بن کے تحصیل اکڑال ، پوگل پرستان کے پرستان اور سینا بتی  علاقے میں بجلی کی بار بار کی کٹوتی نے عام صارفین کو سخت پریشان کر رکھا ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اکڑال کے دور افتادہ علاقہ پرستان اور سینا بتی میں بجلی کی بار بار کی کٹوتی اور کئی کئی روز تک بجلی بند رکھنے کی وجہ سے سینکڑوں صارفین محکمہ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورا علاقہ ایک لائین مین کے رحم وکرم پر ہے اور اسکی من مرضی سے ہی بجلی آتی اور جاتی ہے جبکہ محکمہ کے دیگر انجیئروں نے کبھی بھی اس علاقے کا رخ نہیں کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں چند منٹوں کیلئے کئی بار بجلی آتی ہے لیکن رات کے اوقات میں بیشتر علاقوں میں بجلی بند ہی رکھی جاتی ہے جس کی وجہ سے صارفین بجلی کے اندر غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے تنگ ائے  زیسول ، بڈدارن ، چھوپ کایئڈن ، ہالن ، سینا بتی ، ڈاڈن کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے صارفین محکمہ بجلی سے کئے گئے  ایگریمنٹ ختم کرنے کی سوچ رہے ہیں کیونکہ ماہانہ فیس ادا کرنے کے باوجود بھی بجلی میسر نہیں ہے۔ ایک مقامی صارف حافظ محمد الطاف ڈار نے بتایا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنے موبائیل چارج کرنے کیلئے میلوں دور تحصیل ہیڈ کواٹر اْکڑال کا رخ کرنا پڑتا ہے اور عام لوگوں کا پورا دن فون چارج کرنے میں ہی ضائع ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا علاقے کے صارفین اپنے بجلی کنکشن بند کرنے کی سوچ رہے ہیں تاکہ غریب لوگوں کو بجلی کے بغیر ہی بجلی کی ماہانہ بلوں سے نجات مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ  پوگل۔ پرستان اور سینابتی علاقوں میں بجلی محکمہ کی عدم توجہی کا معاملہ کئی بار محکمہ بجلی کے اعلی حکام کی نوٹس میں لایا گیا ہے  لیکن زمینی سطح پر کام کرنے والے ملازمین اعلی افسروں کو خاطر میں لائے بغیر ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے کو پچیس کلومیٹر دور رامسو ریسوینگ سٹیشن سے بجلی فراہم کی جاتی ہے اور محکمہ کے ملازمین کی عدم توجہی کی وجہ سے پوگل پرستان کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور رات رات بھر جاری رہنے والی  کٹوتی روز کامعمول بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے محکمہ بجلی کے اعلی حکام اور ڈپٹی کمشنر رام بن سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کو لیکر محکمہ بجلی کی سرزنش کریں تاکہ صارفین بجلی کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس سمت کوئی توجہ نہ دی گئی تو سینکڑوں لوگ تحصیل ہیڈکواٹر اْکڑال میں احتجاجی مظاہرے کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔