پوگل بس سٹینڈ کے قریب سرگلی نالہ میں پڑی پائپیں سیلابی ریلے کا باعث بنیں

بانہال//ضلع رام بن میں تحصیل اکڑال پوگل پرستان میں بس سٹینڈ پوگل کے پاس محکمہ جل شکتی کی طرف سے کئی سال سے لاوارث چھوڑی گئی پانی کی پائپیں عوام کیلئے مصائب کا باعث بنی ہوئی ہیں اور گزشتہ بارشوں کے دوران لوہے کی یہ پائپیں سیلابی ریلے کو روک کر لوگوں کی اراضی اور رہائشی مکانوں کیلئے خطرے کا باعث بن گئیں۔مقامی لوگوں نے فون پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ جل شکتی سب ڈویژن بانہال کی یہ پائپیں مارچ 2020میں لگے لاک ڈاﺅن سے بہت پہلے سے پوگل بس سٹینڈ کے اسی نالے میں رکھی گئی ہیں اور ان میں سے بہت ساری پائیپوں کے چوری اور خرد برد ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔انہوں نے کہا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان پائپوں کو وہاں سے ہٹائیں اور پوگل علاقے میں ضرورت کی جگہوں پر انہیں استعمال کریں ۔پوگل کے مقامی شہری عبدالعزیز بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ جل شکتی کی طرف سے کئی سال پہلے بھاری تعداد میں لوہے کی پائیپوں کو پوگل بس سٹینڈ کے ساتھ سرگلی ٹاپ سے آنے والے نالے کیلئے بنائے گئے سڑک کے کلورٹ کے آر پار رکھی گئی ہیں اور پچھلے دنوں کی بارشوں کے دوران پوگل سرگلی نالہ میں سیلابی ریلہ ان بیکار پڑی پائپوں سے ٹکرانے کے بعد سڑک پر آیا اور سڑک سے نیچے بستی کے ساتھ آباد آدھ درجن سے زائد لوگوں کی زمینوں اور فصلوں کیلئے نقصان کا سبب بن گیا۔انہوں نے کہا کہ پائپوں کی وجہ سے آئے سیلابی ریلے سے محمد یوسف بٹ ، عبدالقیوم بٹ ، خورشید احمںد کٹوچ ، صفدر علی کٹوچ ، اور بشیر احمد کی اراضی ، فصلوں اور گھاس کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ معاملہ جب کشمیر عظمی نے محکمہ جل شکتی کے AEE بانہال انل گپتا کی نوٹس میں لایا تو انہوں نے یہ معاملہ حل کرنے کیلئے متعلقہ جونیئرانجینئر کو سونپ دیا۔ بات کے پر متعلقہ جونیئر انجینئر راکیش کٹوچ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ پائپیں چند سال پہلے کسی منظور شدہ منصوبے کے تحت پوگل میں ڈالی گئیں تھیں لیکن اب ٹینڈروں کے بغیر کام ممکن نہیں ہے اور وہ ان پائپوں کو ہٹانے اور مناسب جگہ پر استعمال کیلئے اپنے ایگزیکٹو انجینئر رام بن سے بات کرینگے تاکہ مقامی پوگل کے لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔