پونچھ کے طبی نظام میں سدھار کی ضرورت

ماہر ڈاکٹروں کی شدیدقلت ،دستیاب عملےکے تساہل اور بنیادی ڈھانچے کے فقدان کے باعث سرحدی ضلع پونچھ کا طبی نظام بہت ہی خراب تصویر پیش کررہاہے ۔ضلع بھر کے ہسپتالوں میں اس وقت چالیس سے زائد ماہرڈاکٹروں کی اسامیاں خالی ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو کٹھن مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے اور وہ معمولی سے علاج کیلئے بھی جموں یا سرینگر کے ہسپتالوں کارخ کرنے پرمجبو رہو جاتے ہیں ۔پونچھ میںضلع سطح کے ہسپتال کے علاوہ سب ضلع ہسپتال سرنکوٹ ، سب ضلع ہسپتال منڈی اور سب ضلع ہسپتال مینڈھر قائم ہیں جبکہ پرائمری ہیلتھ سنٹروں اور دیگر طبی مراکز کی بھی کوئی کمی نہیں ۔ علاقہ بھر میں جگہ جگہ طبی مراکز قائم توکئے گئے ہیں لیکن ان میں طبی عملے کو کبھی دیکھا بھی نہیں جاتا۔دور دراز علاقوں میں لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ کئی طبی مراکز ایسے بھی ہیں جہاں مہینے میں ایک بار عملے کی حاضر ی ہوتی ہے ،لیکن سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ضلع میں ڈاکٹروں کی شدید قلت کی وجہ سے مریضوں کو علاج کی سہولت نہیں مل پاتی ہے ۔حالانکہ ضلع ہسپتال میں کچھ حد تک جدید مشینری بھی نصب کی گئی ہے لیکن بدقسمتی سےعملہ کی قلت کے بہ سبب انمشینوں کا استعمال نہیںہوپا رہا اور مریض آج اس کے جدید دور میں بھی علاج کے لئے دنوں کاسفر طے کرکے میلوں دور جانے پر مجبور ہیں ۔صرف سب ضلع ہسپتال منڈی میںہی ڈاکٹروں کی گیارہ اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور اس وقت اس شفاخانہ میں صرف دو ڈاکٹر تعینات ہیں ۔ہسپتال یں سرجن سپیشلسٹ کی 5 پانچ اسامیاں ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ کوئی ایک بھی سپیشلسٹ ڈاکٹر تعینات نہیں ۔اسی طرح سے میڈیکل آفیسر کی 8 اسامیاں ہیںلیکن فی الوقت ہسپتال میںصرف 2 میڈیکل آفیسر تعینات ہیں ۔یہی نہیں بلکہ نیم طبی عملے کی بھی شدید قلت پائی جارہی ہے ۔ہسپتال میں اس وقت فارماسسٹ کی 10 پوسٹیں ،نرسنگ سٹاف کی بھی 10اور ایم پی ڈبلیو کی 06 پوسٹیں خالی پڑی ہیں۔ اس طرح کم و بیش پونچھ کے سارے ہسپتالوں کا بھی ایسا کچھ حال ہے ۔لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس علاقہ میں باہر کے ڈاکٹر ڈیوٹی دینا پسند نہیں کرتے۔جموں یا دیگر علاقوں کے تبدیل ہو کر یہاں تعینات ہونے والے متعدد طبی ملازمین عموماً سیاسی دبائو بناکر اپنا تبادلہ کروالیتے ہیں اوریہ ایک وجہ ہے کہ متعدد اسامیاں خالی پڑی رہتی ہیں اور تعیناتیاں نہیں ہوپاتیں ۔پریشان کن بات یہ بھی ہے کہ بعض مقامی ڈاکٹروں کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی ڈیوٹی جموں جیسے شہروں میں لگے ۔حکومت آئے روز یہ اعلانات تو کرتی رہتی ہے کہ دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کا نظام بہتربنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن ضلع پونچھ کا نظام حکومتی اعلانات کی یکسر نفی کرتاہے ۔ریاستی سرکار کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ دور دراز اور پہاڑی اضلاع  میںشعبہ صحت کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئےکم از کم ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ مرکوز کرنی چاہئےتاکہ مریضوں کو علاج معالجہ کیلئے  طویل مسافتیں طے کرکے جموں اور سرینگر کے ہسپتالوں کارخ نہ کرناپڑے ،جس سے نہ صرف انہیں خود تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں بلکہ ان بڑے شہروں کے اسپتالوں پر مریضوں کا رش  کا دبائو مزید بڑھ جاتاہے ، جس سے وہاں کے مریض بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔