پونچھ میں غیر قانونی کان کنی کیخلاف مہم برائے نام | پولیس پر مافیاسے ہفتہ وصولی کے چکر میں چھوٹ دینے کاالزام

 منڈی//ضلع پونچھ میں ریت ،بجری کی کان کنی پر پابندی نے دریائے سرنکوٹ، منڈی اور پونچھ کے کئی حصوں میں ایک نئے مافیا کو جنم دیا ہے۔ غیر قانونی طور پر ریت  اور بجری کو نکالنے کیلئے استعمال ہونے والی گاڑیاں تین ہزار روپے فی سفر تک کا منافع کمارہی ہیں ۔باوثوق ذرائع نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ ٹرانسپورٹروں اور پولیس نے ریت اور بجری کی کالا بازاری کر کے اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے مبینہ طورپر گٹھ جوڑ کیا ہے وہیں پر ضلع پونچھ کے علاقہ بفلیاز ، لسانہ ، شیندرہ، کلائی ، چکترو چنڈک منگناڑ پونچھ اور منڈی میں کان کنی سب سے زیادہ ہو رہی ہے جبکہ مافیا شام کے وقت دریائوں میں سرگرم ہو کر ریت اور بجری نکالنے میں مصروف رہتا ہے جبکہ مذکورہ مافیا پولیس ناکوں کے باوجود ریت او ر بجری کو دیگر علاقوں میں منتقل کردیتا ہے ۔سپریم کورٹ نے گزشتہ چند برسوں میں دریاؤں پر پابندی عائد کرنے سے پہلے بجری اور ریت کی قیمتیں مختص کی تھیں اور اس وقت غیر قانونی مارکیٹ میں بجری کی موجودہ قیمت 2500 روپے سے تین ہزار روپے فی ٹرالی ہے اور ریت کی 5000 سے 6000 جو کہ عوام کو تعمیراتی کاموںکیلئے مجبوراًً خریدنی پڑتی ہے۔اس پورے غیر قانونی عمل کو روکنے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے سختی کیساتھ کارروائی ہی نہیں کی جارہی ہے جبکہ یو ٹی انتظامیہ گزشتہ سال کان کنی کی لیز یا کان کے لائسنس دینے کیلئے نیلامی مکمل نہیں کر سکی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ نہ ختم ہونے والی کان کنی نہ صرف سرکاری خزانے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ اسٹریٹجک پلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور ضلع بھر کے دریاؤں کے راستے کو متاثر کیا ہے ۔مکینوں نے سرکاری عملے پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مافیا مبینہ طور پر اس کا منافع سرکاری عہدیداروں اور پولیس کے ساتھ بانٹتا ہے جنہیں غیر قانونی نقل و حمل پر چیک رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی کان کنی کے حوالے سے ضلع انتظامیہ کو بھی مطلع کیا مگر آج تک اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی ۔مکینوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ جیالو جی اینڈ مائینگ کے کچھ ملازمین مافیا کیساتھ مل کر بھاری رشوت طلب کرتے ہیں جس کے بعد قدرتی وسائل کی چوری کی کھلے عام راحت دی جاتی ہے ۔مقامی لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ حالیہ دنوں میں محکمہ کی جانب سے غیر قانونی قبضہ کیخلاف چلائی گئی مہم کا زمینی سطح پر جائزہ لے کر غیر قانونی عمل میں ملوث ملازمین کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔اس حوالے سے ضلع جیالوجی اینڈ ماینگ آفسر جاوید احمد نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ چارماہ سے انہوں نے غیر قانونی طور پر کانکنی کرنے والے لوگوں پر کارروائی کررہے ہیں جس کے دوران 4جے سی بی مشینیں 371ٹریکٹر ٹرالیاں ،ٹپر و ڈمپر والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی ہے ۔انہوں نے یقین دلاتے ہوئے کہاکہ کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا ۔