پولیس کیلئے بڑی کامیابی: آئی جی | پناہ دینے والے کی جائیداد ضبط ہو گی

بلال فرقانی


سرینگر // پولیس نے کہا ہے کہ مائسمہ میں حملے کے بعد پولیس نے اپنی پوری قوت کیساتھ واقعہ کے سبھی پہلوئوں کی جانچ شروع کی اور اس دوران ایک ایسے نوجوان کو گرفتار کیا گیا جس نے کہنہ کھن ڈلگیٹ چوک کے متصل جھڑپ میں مارے گئے دو ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع فراہم کی جس کے آپریشن کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مہلوک غیر مقامی ملی ٹینٹ یہاں بطور کرایہ دار رہائش پذیر تھے۔ادھرانسپکٹر جنرل پولیس کشمیر وجے کمار نے کہا ہے کہ ملی ٹینٹوں کی تعداد میں کمی واقع ہورہی ہے اورانہیں پنا ہ دینے والوں کی جائیداد کو ضبط کیا جائے گا ۔

انہوں نے بشمبر نگر علاقے میںمسلح تصادم آرائی میں دو جنگجوئوں کی ہلاکت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مصدقہ اطلاع ملنے کے بعدعلاقے کو محاصرے میںلیا گیا جس دوران وہاں ایک رہائشی مکان میں چھپے ملی ٹینٹوں نے سیکورٹی فورسز پر گرینیڈ داغا جس کے نتیجے میں دو پولیس اور ایک سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہو گئے ۔ انہوںنے کہا کہ اس کے ساتھ ہی علاقے میںجھڑپ ہوئی جس دوران عسکری تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ دو غیر ملکی ملی ٹنٹ مارے گئے جن کی شناخت عادل بھائی اور مبشر بھائی ساکنان پاکستان کے بطور ہوئی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں مہلوک ملی ٹینٹوں نے اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کر لیا گیا ۔ وجے کمار نے بتایا کہ عادل بھائی وسطی کشمیر میں لشکر طیبہ کا اعلیٰ کمانڈر تھا اور اْس کی ہلاکت سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ دونوں ملی ٹنٹ مائسمہ سرینگر میںسی آر پی ایف پر ہوئے حملے میں ملوث تھے جبکہ دونوں سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور اْنہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں پیش پیش تھے۔اس موقعہ پر آئی جی پی کشمیر نے ایک بار پر دوہرایا کہ جس رہائشی مکان میں ملی ٹینٹ موجود تھے اْس کو سیل کر دیا جائے گا ۔ ایک اور سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہا کہ وادی کشمیر میں سرگرم ملی ٹینٹوںکی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے اور کہا کہ کوئی بھی ملی ٹینٹ چاہئے وہ مقامی ہو یا غیر ملکی عام شہریوں ، پولیس اہلکاروں اور صحافیوں کے قتل میں ملوث ہوگا، اْس کو ایسی ہی سزا ملے گی۔