پولیس پر زیادتی اور الٹاکیس درج کرنیکاالزام

مینڈھر//گزشتہ دنوں مصطفی نگر مینڈھر میں ٹریکٹر حادثہ کے بعد احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس کیس درج ہونے پر ان لوگوں نے شہیدی یادگار مینڈھر میں دھرنا دیاجو رات بھر جاری رہا۔دھرنے پر بیٹھے افراد نے مینڈھر پولیس پر الزام لگایا کہ جب ایس ایچ او مینڈھر عابد رفیقی دھار کس میں حادثہ والی جگہ پہنچے تو اس سے قبل ہی انہوںنے ہلاک ہونے والے نوجوان کو ٹریکٹر سے نکال کر ہسپتال بھیج دیا جس دوران دیگر لوگوں نے بھی ان کی مدد کی ۔انہوںنے الزام عائدکیاکہ ایس ایچ او مینڈھر نے جاتے ہی لڑکوں کو تھپڑ مارے اور گالی گلوچ کرنا شروع کر دی اور وہ ہاتھا پائی پر اتر آئے لیکن چند افرا دکی مداخلت کے بعد معاملہ کنٹرول ہو گیا لیکن ایس ایچ او نے محمد نذیر احمد کو پکڑ کر مینڈھر تھانے میں لایا جس کے بعد اس کے گھر والوں اور رشتہ د اروں نے پولیس کے خلاف مینڈھر جموں شاہراہ کو بند کر کے احتجاج کیا ۔انہوںنے بتایاکہ اس دوران ایس ڈی پی او مینڈھر نے موقعہ پر جا کر احتجاجیوں سے وعدہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ مینڈھر چلیں جہاں بات چیت کرکے انکوائری کی جائے گی اور نذیر کو بھی چھوڑ دیاجائے گالیکن نذیر کو چھوڑنے کے بجائے مینڈھر پولیس نے اس کی مار پیٹ کی اور دو الگ الگ مقدمے بھی درج کردیئے۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی ار نمبر147زیر دفعات358/34تین آدمیوں کے خلاف لگائی گئی ہے جبکہ ایک دوسری ایف ائی آر سڑک بند کرنے کے الزام میں دس افراد کے خلاف لگی ہے ۔انہوں نے پولیس پر الزام عائدکیا کہ اس نے نذیر کی پٹائی کرنے کے بعد 358/34میں کیسے ضمانت دے دی جبکہ یہ ضمانت عدالت سے ملتی ہے ۔دھرنے پر بیٹھے افراد کے مطابق جب نذیر کو چھوڑا گیا تو گھر جاتے ہی وہ بے ہوش ہو گیا جس کو انہوں نے سب ضلع ہسپتال مینڈھر لایا جہاں پر وہ زیر علاج ہے۔انہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی انکوائری کی جائے اورقصور وار ایس ایچ او مینڈھر جس کے خلاف کارروائی کی جائے ۔دھرنے پر بیٹھے افراد نے ایس ایچ او مینڈھر، ایس ڈی پی او مینڈھر اور تحصیلدار مینڈھر کے خلاف جم کر نعرے بازی کی ۔انہوںنے کہا کہ جب تک انکوائری نہیں ہوتی وہ دھرنا ختم نہیں کریںگے ۔دریں اثناء بیوپار منڈل مینڈھر کے صدر نے معاملے کی مذمت کرتے ہوئے بازار بند کرانے کی دھمکی دی ۔انہوںنے کہا کہ قصور وار کوئی ہے اور پرچہ کسی اورکے خلاف لگایا جا رہاہے لہٰذا فوری طور ان مقدمات کو واپس لیا جائے ۔وہیں شام دیر تک لوگوں کو دھرنا جاری تھا ۔ان کاکہناتھاکہ وہ تب تک دھرنا سے نہیں اٹھیںگے جب تک کہ معاملے کی چھان بین نہ کی جائے ۔