پولیس نے 15سال بعد پہلی بار

 سرینگر// بارودی مواد بنانے کیلئے درکارمائع  مواد 15 سال کے بعد ضبط کیا گیا ہے۔حال ہی میں بین الاقوامی سرحد کے ساتھ ڈرون کے ذریعہ ایک سفید مائع کی تین بوتلوں کی کھیپ کو گرایا گیا تھا۔ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے جموں میں میڈیا کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت کے دوران کچھ کیمیائی دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی اور اسے فرانزک لیبارٹری بھیجے جانے کا اشارہ دیا تھا۔حکام نے بتایا کہ ابتدائی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ٹرائینیٹروٹولیوین (TNT) یا نائٹروگلسرین ہو سکتی ہے، جو عام طور پر ڈائنامائٹس میں استعمال ہوتی ہے، لیکن حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔مائع دھماکہ خیز مواد، جس کا رنگ سفید تھا، تین ایک لیٹر کی بوتلوں میں پیک کیا گیا تھا اور یہ ڈرون کے ذریعے گرائے گئے سامان کا حصہ تھا، جس نے 24فروری کو پڑوسی ملک پاکستان سے پرواز کی تھی۔مکمل تلاشی کے بعد، پولیس نے دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈیز)، اسلحہ اور گولہ بارود، اور یہ تین بوتلیں، ڈیٹونیٹرز کے ساتھ برآمد کیں۔ حکام نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ اس کھیپ کا مقصد کشمیر میںملی ٹینٹوںکے لیے یا ممکنہ استعمال کے لیے اسمگل کیا جانا تھا۔ 2007 کے دوران جنوبی کشمیر میںملی ٹینٹ گروپوں کی طرف سے مائع دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد ایسا نہیں دیکھا گیا ہے۔