پولیس نے فائلوں کو کھنگالنا شروع کردیا،4000کیسوں کا جائزہ لینے کا کام شروع

 سرینگر// سنگبازوں کو عام معافی دینے کے سرکاری اعلان پر ابھی تک  ملوث نوجوانوں کے بارے میں صحیح اعدادو شمار ظاہر نہیں ہوئے ہیںکیونکہ پولیس فہرست تیار کرنے میں لگی ہوئی ہے۔تاہم ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سرکاری سطح پر3سے4ہزار کیسوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔وادی میں گزشتہ برس2دہائیوں میں سے بڑے کریک ڈائون کے دوران صرف اکتوبر 2016کے دوسرے ہفتے  میں446نوجوانوں کو احتجاجی مظاہروں کے دوران مبینہ ہند مخالف نعرہ بازی اور سنگبازی کی پاداش میں گرفتار کیا گیا،جبکہ6 ماہ تک جاری رہنے والی ایجی ٹیشن کے دوران قریب8ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔،تاہم معمولی نوعیت اور واقعات میں ملوث تمام نوجوانوں کے خلاف کیسوں کا اندراج عمل میں نہیں لایا گیا۔ذرائع کے مطابق گرفتار شدگان میں سے550کے قریب لوگوں پر پی ایس اے عائد کیا گیا۔گزشتہ برس اکتوبر کے وسط تک جنوبی کشمیر کے کولگام،شوپیان،پلوامہ اور اننت ناگ میں1821شہریوں کو حراست میں لیا گیا،جبکہ وسطی کشمیر بڈگام،گاندربل اور سرینگر میں قریب1700 کو گرفتار کیا گیا تھا۔شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ،بارہمولہ اور کپوارہ میں بھی گزشتہ برس کے اکتوبر کے آخر تک1130لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔سب سے زیادہ نوجوانوں کو سرینگر ضلع سے حراست میں لیا گیا تھا،جن کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ تھی،جن میں سے129افراد کو احتیاتی طور پر نظر بند رکھا گیا تھا۔پلوامہ میں700جبکہ بارہمولہ میں671اور سب سے کم ضلع کپوارہ سے250افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گزشتہ برس بجٹ سیشن کے دوران اسمبلی میں بتایا تھا کہ6ماہ تک وادی میں جاری رہنے والی ایجی ٹیشن کے دوران8587 افرادکو حراست میں لیا گیا،جن میں سے جنوری2017تک8ہزار473 کی رہائی عمل میں لائی گئی۔وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا تھا کہ مجموعی طور پر522افراد کو پی ایس کے تحت حراست میں لیا گیا تھا،جن میں سے257کو رہا کیا گیا۔ذرائع کے مطابق سنگبازی میں پہلی بارملوث افراد کو عام معافی دینے کا اعلان کرنے کے بعد سرکاری سطح پر ان کیسوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ضلعی سطح پر پولیس تمام فائلوں کو کھنگال رہی ہے،اور اس سلسلے میں ممکنہ افراد کی ایک فہرست تیار کی جا رہی ہے،جنہیں بعد میں عام معافی کے دائرے میں لایا جائے گا۔پولیس کے صوبائی سربراہ منیر احمد خان کا بھی کہنا ہے کہ اس سلسلے میں فہرست تیار کی جا رہی ہے۔منیر احمد خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’ہم کیسوں کا احاطہ کر کے فہرست تیار کر رہے ہیں،اور اس سلسلے میںکام چل رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ صحیح تعداد کا اندازہ اس کے بعد ہی لگایا جاسکتا ہے کہ عام معافی کے دائرے میں کتنے لوگ آئیں گے،اور اس کے بعد ہی اصل تعداد کے بارے میں بتایا جاسکتا ہے۔