پولیس سب انسپکٹر بھرتی گھوٹالہ میں ہریانہ کی گینگ ملوث|| سی بی آئی کے 36مقامات پر چھاپے سابق ایس ایس آر بی چیئر مین ، کنٹرولر، چندپولیس و فورسزافسران،اساتذہ، ایک کوچنک سینٹر، ایک نجی کمپنی کے احاطوں کی تلاشیاں

سوالیہ پرچوں تک رسائی کیلئے 20سے 30لاکھ روپے ادا کئے گئے:سی بی آئی

 

بلال فرقانی

 

سرینگر //مرکزی تفتیشی بیورو (CBI)نے منگل کو کہا کہ ہریانہ میں مقیم ایک گینگ جموں و کشمیر پولیس سب انسپکٹر بھرتی گھوٹالے میں ملوث ہے۔سی بی آئی نے بتایا کہ جموں، سرینگر سمیت 36 مقامات پر تلاشی لی گئی ہے۔ ہریانہ میں کرنال، مہندر گڑھ اور ریواڑی، گجرات میں گاندھی دھام، دہلی، اتر پردیش میں غازی آباد اور کرناٹک میں بنگلورو میںگھوٹالے کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر تلاشیاں لی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ “سابق چیئرمین( ایس ایس بی)، اس وقت کے امتحان کے کنٹرولر، ہریانہ میں مقیم گینگ کے ارکان، کچھ اساتذہ، جے اینڈ کے پولیس کے کچھ حاضر سروس/ریٹائرڈ اہلکاروں بشمول ڈی ایس پی اور سی آر پی ایف کے احاطے کی تلاشی لی گئی۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک تلاشی کے دوران مجرمانہ دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے ہیں۔3ستمبر 2022کوسی بی آئی نے جموں و کشمیر حکومت کی درخواست پر اس وقت کے میڈیکل آفیسر، بی ایس ایف فرنٹیئر ہیڈکوارٹر،پالورہ سمیت 33 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ پھر ممبر، JKSSB؛ انڈر سیکرٹری، سیکشن آفیسر؛ CRPF کے سابق اہلکار ، جے اینڈ کے پولیس کے اے ایس آئی،ایک کوچنگ سینٹر کا مالک اکھنور؛ بنگلورو میں واقع نجی کمپنی کیخلاف27مارچ 2022کو جے اینڈ کے سروسز سلیکشن بورڈ (جے کے ایس ایس بی) کے ذریعہ پولیس میں سب انسپکٹرز کے عہدوں کے لئے تحریری امتحان میں بے ضابطگیوں کے الزامات پر کیس درج کئے گئے۔4جون کو کیا گیا تھا، ان سبھی افراد پرامتحان میں کوتاہی کے الزامات تھے۔ جموں و کشمیر حکومت نے اس کی جانچ کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ملزمان نے ایس ایس بی، بنگلورو کی پرائیویٹ کمپنی کے عہدیداروں، فائدہ اٹھانے والے امیدواروں اور دیگر کے درمیان سازش کی اور سب انسپکٹرز کے عہدوں کے تحریری امتحان کے انعقاد میں زبردست بے ضابطگیاں کیں۔ مزید یہ الزام لگایا گیا کہ جموں، راجوری اور سانبہ اضلاع سے منتخب امیدواروں کی غیر معمولی حد تک زیادہ فیصد تھی۔ ایس ایس بی کی طرف سے مبینہ طور پر بنگلورو کی پرائیویٹ کمپنی کو سوالیہ پرچہ ترتیب دینے کا کام سونپتے ہوئے قواعد کی خلاف ورزی پائی گئی۔اس سے قبل 5ستمبر کو جموں، سرینگر، بنگلورو وغیرہ سمیت 30 مقامات پر ملزمان کے ٹھکانے پر تلاشی لی گئی تھی۔تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ امتحان کے آغاز سے قبل سوالیہ پرچہ تک رسائی کے لیے رضامند امیدواروں اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے مبینہ طور پر 20 سے 30 لاکھ روپے (تقریباً) کی ادائیگی کی گئی۔ سی بی آئی اہلکار نے کہا، “اس سلسلے میں، ہریانہ میں مقیم ایک گینگ، جموں و کشمیر کے کچھ اساتذہ، سی آر پی ایف، جے اینڈ کے پولیس اور جے کے ایس ایس بی کے کچھ موجودہ/ریٹائرڈ اہلکاروں کی شمولیت مبینہ طور پر سامنے آئی ہے۔”