پولیس سب انسپکٹر بھرتی معاملہ سی بی آئی کے 30مقامات پر چھاپے، کئی افسران اور نجی فرم کیخلاف کیس درج

نیوز ڈیسک

نئی دہلی//سی بی آئی نے جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ (جے کے ایس ایس بی) کے ذریعہ پولیس سب انسپکٹرز کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں جمعہ کو 30 مقامات پر تلاشی لی۔انہوں نے بتایا کہ جموں میں 28 مقامات پر اور سرینگر اور بنگلورو میں ایک ایک مقام پر ایس ایس بی کے رکن نارائن دت اور 32 دیگر ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد تلاشی شروع کی گئی، جن میں درمیانہ دار اور امیدوار شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سی بی آئی نے ایف آئی آر میں جموں میں تعینات ایک میڈیکل آفیسر کرنیل سنگھ، اکھنور میں ایک کوچنگ سنٹر کے مالک اویناش گپتا اور بنگلورو میں قائم ایک کمپنی کا نام بھی لیا ہے۔

 

ایک بیان میں سی بی آئی نے کہا کہ اس نے جموں و کشمیر حکومت کی درخواست پر 33 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جن میں اس وقت کے میڈیکل آفیسر، بی ایس ایف فرنٹیئر ہیڈ کوارٹر، پلورا، اس وقت کے ممبر جے کے ایس ایس بی، انڈر سکریٹری، سیکشن آفیسر (دونوں) شامل ہیں۔ ایس ایس بی، سی آر پی ایف کے سابق اہلکار، جے اینڈ کے پولیس کے اے ایس آئی، ایک کوچنگ سینٹر کے مالک، اکھنور، بنگلورو میں واقع نجی کمپنی، نجی افراد اور نامعلوم دیگر شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مقدمہ اس سال 27 مارچ کو جموں و کشمیر پولیس میں سب انسپکٹرز کے عہدوں کے لئے تحریری امتحان میں بے ضابطگیوں کے الزامات پر درج کیا گیا ہے، جو جے اینڈ کے سروسز سلیکشن بورڈ (جے کے ایس ایس بی) کے ذریعہ منعقد کیا گیا تھا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ نتائج کا اعلان رواں سال 4 جون کو کیا گیا تھا اور امتحان میں کوتاہی کے الزامات لگائے گئے تھے۔اس میں مزید یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ جموں، راجوری اور سانبہ اضلاع سے منتخب امیدواروں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ تھی۔”جے کے ایس ایس بی کی طرف سے قواعد کی خلاف ورزی مبینہ طور پر بنگلورو کی پرائیویٹ کمپنی کو سوالیہ پرچہ ترتیب دینے کا کام سونپنے میں پائی گئی،” ۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ کہ جمعہ کو 30 مقامات پر تلاشی لی گئی جن میں جموں، سری نگر، بنگلورو وغیرہ میں ملزمین کے ٹھکانے پر چھاپے مارے گئے۔