پولیس سب انسپکٹر اسامیوں کیلئے عمر کی موجودہ حد

سرینگر // جموں وکشمیر پولیس میں سب انسپکٹر اسامیوں کیلئے عمر کی حد 18 سے 28 برس رکھنے پر مقامی نوجوان برہم ہیں اور انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عمر کی حد بڑھا کر اس کو 21 سے 35برس کی جائے تاکہ یہاں کے پڑھے لکھے بیروزگار نوجوان بھی پولیس کی اسامیوں کے اہل بن سکیں ۔سرکاری محکمہ جات میں بھرتی کیلئے ماضی میں جاری کی گئی نوٹیفکیشن کے بعد اُمیدواروں کا سڑکوں پر آنا اور عدالتوں کے چکڑ کاٹنا ایک معمول بن گیا ہے وہیں اب ہزاروں نوجوان بھی سراپا احتجاج ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر پولیس میں سب انسپکٹر کی اسامیوں کیلئے عمر کی حد 21سے28برس رکھی گئی ہے جو کہ سرا سر ان کے ساتھ ناانصافی ہے ۔کشمیر عظمیٰ کو کئی امیدواروں کے وفد نے بتایا کہ اس فیصلے سے ان کا مستقبل تباہ ہو جائے گا اور حکام کو جلد دوسری ریاستوں کی طرف عمر کی حد 21 سے 35سال کے درمیان رکھنی چاہئے تاکہ وہ بھی اس بھرتی عمر میں شامل ہو سکیں ۔ایسے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سب انسپکٹر کیلئے عمر کی آخری حد33سال مقرر ہے جبکہ کیرالہ میں 31سال ، مہارشٹرا میں 45سال ، بہار میں 42سال جبکہ جموں میں صرف 28سال رکھی گئی ہے جو کہ یہاں کے امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر میں خصوصی درجہ سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کیلئے بھی کوئی رعایت نہیں رکھی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یکم جولائی کو جموں وکشمیر حکام نے ایک نوٹیفکیشن میں سب انسپکٹر کی اسامیوں کیلئے عمر کی حد 18سے28سال کے درمیان رکھی ہے اور اس سے کئی ایک نوجوان اس اسامی کے اہل نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت جموں وکشمیر کے 40ہزار ایسے اُمیدوار ہیں جو پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی کی خواہش رکھتے ہیں لیکن انکی عمر2سے 3سال زیادہ ہو چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 18سال کی عمر میں کئی ایک نوجوان گریجوکیشن بھی نہیں کر پاتے ہیں جبکہ نئی ایجوکیشن پالیسی کے مطابق اب 5سال گریجوکیشن میں لگ جاتے ہیں اور طلاب 21یا پھر 22سال کی عمر میں گریجوکیشن کر پاتے ہیں ایسے میں سرکار کی جانب سے 18سے28سال عمر کی حد مقرر کرنا ان کے ساتھ ناانصافی ہے ۔