پولیس افسروں و اہلکاروں کے گھر جانے پر مکمل پابندی عائد

 سرینگر//پولیس ہیڈکوارٹرپرمنگل کو ایک اہم میٹنگ منعقدہوئی ،جسکی صدارت ریاستی گورنرکے مشیربرائے داخلی امورکے وجے کمارنے کی۔ میٹنگ میں ڈائریکٹرجنرل پولیس دلباغ سنگھ ،ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل برائے سلامتی اموروامن وقانون منیراحمدخان ،انسپکٹرجنرل کشمیرایس پی پانی ،،سی آر پی ایف وایس ایس بی اورمختلف خفیہ اداروں کے اعلیٰ افسروں بھی موجودتھے ۔معلوم ہواکہ سلامتی صورتحال کاجائزہ لینے کیلئے منعقدہ اس میٹنگ کے دوران اسبات پرتشویش ظاہرکی گئی کہ سخت انتباہ کے باوجودریاستی پولیس اہلکار،ایس پی اوئوزاورجونیئررینک کے افسران اپنے آبائی گھرجانے کاخطرہ مول لیتے ہیں ،جسکے نتیجے میں جنگجوئوں کوایسے اہلکاروں اورافسروں کوآسانی کیساتھ نشانہ بنانے کاموقعہ مل جاتاہے ۔بتایاجاتاہے کہ اس سلسلے میں ریاستی پولیس کی کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ(سی آئی ڈی)سے وابستہ سب انسپکٹرامتیازاحمدمیرکے فوری افسرکی جانب سے منع کئے جانے کے باوجوداتوارکوآبائی گھرواقع پلوامہ چلے جانے اوراس دوران راستے میں جنگجوئوں کی جانب سے اس پولیس افسرکواغواء کے بعدموت کی نیندسلادینے کامعاملہ بھی زیرغورلایاگیا۔میٹنگ میں موجودپولیس کے اعلیٰ افسروں نے مشیرکوبتایاکہ پولیس اہلکاروں اورجونیئرافسروں کے بغیرسیکورٹی گھرجانے پرپابندی عائدکی گئی ہے ،اوراس سلسلے میں باضابطہ طورپرایک ایڈوائزری بھی جاری کی گئی ۔انہوں نے بتایاکہ سی آئی ڈی انسپکٹرامتیازمیرکی دن دہاڑے ہلاکت کاواقعہ رونماہونے کے بعدجاری کردہ ایڈوائزری پرسختی کیساتھ عمل درآمدکرنے کی ہدایت دی گئی ہے ،اوراس سلسلے میں اب متعلقہ پولیس افسرمحکمہ کے سامنے جوابدہ بنائے جائیں گے ۔معلوم ہواکہ اسبارے میں سلامتی ،امن وقانون کے ایڈیشنل ڈائریکٹرمنیراحمدخان نے بتایاکہ جنوبی کشمیرسے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں اورجونیئرافسروں کوکئی بارخبردارکیاگیاکہ وہ بغیرسیکورٹی اپنے آبائی گھروں کونہ جائیں ۔انہوں نے کہاکہ مقامی پولیس اہلکاروں کویہ بتانے کی ضرورت ہے کہ گھرجاکروہ خوداپنی زندگیوں کوخطرے میں ڈال دیتے ہیں ۔معلوم ہواکہ میٹنگ کے دوران جنگجوگروپوں کی جانب سے پولیس تھانوں ا ووفورسزکیمپوں کے علاوہ گشتی پارٹیوں پرحملوں میں تیزی لائے جانے کی حکمت عملی کوبھی زیرغورلایاگیا،اوراسبارے میں بتایاگیاکہ پولیس ،فورسزاورفوج کی کامیاب کارروائیوں کے بعداب جنگجوگروپ دبائو کوکم کرنے کی کوشش میں لگے ہیں ،اوراُنکی کارروائیوں اورحملوں میں آئی تیزی اسی کوشش کی کڑی ہوسکتی ہے ۔بتایاجاتاہے کہ اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران اسبات کابھی جائزہ لیاگیاکہ غالباًجنگجوگروپ کچھ خطرناک اورجدیدترین ہتھیارحاصل کرچکے ہیں ۔اسبارے میں بتایاگیاکہ جنگجوئوں کی جانب سے شام اوررات کے وقت جنوبی کشمیرمیں حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران سیکورٹی اہلکاروں کونشانہ بنانے کیلئے ممکنہ طورپرسنیپررائفل استعمال کئے جانے کے واقعات کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے اوربہت جلداسبارے میں اصل صورتحال کاپتہ لگایاجائیگا۔