پولارڈ میں ابھی بہت کرکٹ باقی ہے:بشپ

 ممبئی/ممبئی انڈینس کے آل راؤنڈر کیرون پولارڈ بھلے ہی اپنی سب سے مایوس کن آئی پی ایل مہم کے درمیان میں ہوں لیکن ویسٹ انڈیز کے سابق تیز گیند باز اور کرک انفو کے ایکسپرٹ ایان بشپ کے مطابق ان سے اب بھی اچھے کھیل کی امید کی جا سکتی ہے ۔بشپ نے ‘ٹی20 ٹائم آؤٹ پروگرام میں کہا، “پولارڈ کو اپنے کھیل کو دوبارہ بنانا ہے ۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ وہ اس گیم میں اپنا مستقبل دیکھتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک کھلاڑی کے طور پر ختم ہو چکے ہیں لیکن میں وہاں جانا بھی نہیں چاہتا۔ وہ ازسرنو شروعات کرسکتے ہیں۔”آئی پی ایل 2022 میں 11 میچوں کے بعد پولارڈ نے 14.40 کی اوسط اور 107.46 کے اسٹرائیک ریٹ سے صرف 144 رن بنائے ہیں۔ یہ اسٹرائیک ریٹ ان کے لیے کسی بھی آئی پی ایل سیزن میں سب سے کم ہے ۔ اس ٹورنامنٹ میں 130 سےکم کا اسٹرائیک ریٹ ان کے لئے صرف 2011 میں تھا۔ پولارڈ جمعرات کو 35 سال کے ہو جائیں گے ۔ وہ 2010 سے ہی ممبئی کی ٹیم کا اٹوٹ حصہ رہے ہیں اورانہوں نے ممبئی کی پانچ جیت کی مہم میں بھی بڑا کردار ادا کیا ہے ۔بشپ نے کہا، “انہوں نے ایک عظیم کھلاڑی پر بھروسہ کیا ہے اور ان کے تئیں وفاداری کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ہم سب کو کافی کچھ یاد رکھناچاہیے ، پھرچاہے وہ میڈیا ہو یا حامیوں میں ہی ہو۔ جب بھی ممبئی نے ٹائٹل جیتا ہے تب پولارڈ کاتعاون رہاہے ۔ 2013 میں 42 کی اوسط سے 420 رن، 2019 اور 2020 تک اوسط کو 30 سے اوپررکھنا جب ان کا اسٹرائیک ریٹ اکثر 160 اور 190 تک (2019 میں 156.74 اور اگلے سال 191.42) ہواکرتاتھا۔ بطورایک فرنچائزآپ ایسی چیزیں یاد رکھیں گے اور انہیں بھرپورمواقع دیں گے ۔”پولارڈ کے لیے پانچ تیز ترین رنز بنانے والے سیزن میں سے چار (2013، 2015، 2019 اور 2020) میں ممبئی نے خطاب جیتا ہے ۔ وہ پچھلے کچھ برسوں سے ٹیم کے لیڈر شپ گروپ کا حصہ بھی رہے ہیں۔ اس سال ممبئی نے 11 میں سے صرف دو میچ ہی جیتے ہیں اور ظاہر ہے شائقین میں بھی ناراضگی ہے ۔ اس کے باوجود پولارڈ کو آرام دے کر باقی کھلاڑیوں کو موقع دینے پرنیوزی لینڈ کے سابق کپتان ڈینیئل ویٹوری بھی متفق نہیں ہیں۔ویٹوری نے کہا، “فرنچائز ایک فین کی طرح جذباتی انداز میں نہیں سوچ سکتی۔ جیسا کہ بش (بشپ) نے کہا، انہیں ماضی کو یاد رکھنا ہوگا اور مستقبل کی طرف بھی دیکھنا ہوگا۔ کیا پولارڈ اس مستقبل کا حصہ ہیں؟ میرے حساب سے تو یقینی طور پر مستقبل کا حصہ ہیں۔ ماضی میں بھی کچھ ایسے سیزن رہے ہیں جہاں ان کی شروعات اچھی نہیں ہوئی لیکن انہوں نے زبردست واپسی کی ہے ۔ یہ بہت ضروری ہے کہ وہ بچے ہوئے میچ بھی ضرور کھیلیں کیونکہ وہ مستقبل میں بھی اس فرنچائز کا حصہ رہیں گے ۔