پورے جموںوکشمیر میں طبی ڈھانچے کو بہتر بنا یا گیا

جموں//پوری دُنیا کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کو کووِڈ۔19 وَبائی اَمراض سے نمٹنے کا ایک بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے ۔جموںوکشمیر اِنتظامیہ نے لوگوں کی زندگیوں کے تحفظ اور اُنہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے جموںوکشمیر یوٹی میں طبی ڈھانچے کوبڑھایا ہے۔پورے جموں و کشمیر میں طبی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کے لئے زائد اَز400 طبی بنیادی ڈھانچہ پروجیکٹوں پر کام شروع کئے جارہے ہیں جن پر 7,177کروڑ روپے کی لاگت آئے گی ۔ جموں صوبہ اور کشمیر صوبہ میں دو نئے ایمز 4,000 کروڑ روپے ( ہر ایک پر 2,000کروڑ روپے ) کی لاگت اور سات نئے سرکاری میڈیکل کالج کل  1595 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کئے جارہے ہیں۔ 10 نئے نرسنگ کالجز60 کروڑ روپے لاگت سے  قائم کئے جارہے ہیں اور دونوں صوبوں جموںاور کشمیر میں ایک ایک سٹیٹ کینسر اِنسٹی چیوٹ 240 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم ہو رہے ہیں۔جموںوکشمیر کو پی ایم ڈی پی کے تحت صحت کے 140 پروجیکٹوں کے لئے 881کروڑ روپے بھی واگزار ہوئے ہیں جن میں سے 75پروجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں اور 26 پروجیکٹ جلد مکمل کئے جائیں گے ۔ عالمی بینک جموںوکشمیر کو 367 کروڑ روپے کی مالی اِمداد فراہم کر رہا ہے ۔ اِس طرح یہاں صحت حفظان اِداروں کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔جموںوکشمیر میں ڈاکٹروں کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں کئی اِقدامات جیسے اودھمپور اور ہندواڑہ میں دو نئے میڈیکل کالجوں کے علاوہ پانچ نئے میڈیکل کالجوں کا قیام، گورنمنٹ میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی 500 اِضافی نشستیں جن میں 85 نشستیں مالی طور پر کمزور طبقوں کی خاطر رکھی گئی ہیں۔نئے میڈیکل کالجز کو تمام ضروری سہولیات کے ساتھ ضلع ہسپتالوں سے منسلک کر کے اَپ گریڈ کیا گیا ہے جبکہ موجودہ 300بستروں کے ہسپتالوں کو 500 بستروں کے ہسپتالوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ محکمہ صحت نے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کی کمی کو دُور کرنے اور اِس سطح پر ماہرین تیار کرنے کے لئے اَضلاع کے سرکاری میڈیکل کالجوں اور ضلع ہسپتالوں میں نیشنل بورڈ کورسوں کا ڈپلومہ شروع کیا ہے جس سے کم سے کم 250 نشستیں بڑھ جائیں گی۔آیوش نے صحت دیکھ رکھ کی خدمات کو فروغ دینے کے لئے دو آیوش کالج  ۱)یونانی اور ۲) آیورویدک کالج قائم کئے گئے ہیں۔571 سٹینڈالون ڈسپنسریوں کو آیوش کی سہولیت بھی فراہم کی جارہی ہیں۔11 ایگزیلری نرس اور مِڈ وائف (اے این ایم) / جنرل نرسنگ اینڈ مِڈ وائفری(جی این ایم ) سکولوں کو مرکزی مدد سے فعال کیا گیا ہے اور 10مزید بی ایس سی کا تعارف پیرا میڈیکل کورسز سکول کام کرنے کے عمل میں ہیں ۔ تمام ترقیاتی اقدامات کے نتیجے میں جموںوکشمیر کے ہیلتھ اِنڈکس میں مسلسل بہتری اور مثبت تبدیلیاں آئی ہیں ۔ گذشتہ تین برسوں میں جموںوکشمیر میں نوزائیدہ اَموات کی شرح 23.1سے کم ہو کر 13.3فیصد فی ہزار ہو گئی ہے ۔شیر خوار بچوں کی شرح اَموات32.4 سے کم ہو کر 16.3فیصد فی 1000ہو گئی ہے ۔ پیدائشی وقت جنسی تناسب 923 سے بڑھ کر 976 فی ہزار ہو گیا ہے ۔ اِدارہ جاتی زچگی 7فیصد سے بڑھ کر 92.4فیصد ہو گئی ہے ۔جموں و کشمیر اِنتظامیہ دو میڈی سٹیز جموںصوبہ میں ایک اور کشمیر صوبہ میں ایک قائم کرنے جا رہی ہے۔کشمیر صوبہ میں میڈیسٹی سمپورہ پانپور میں قائم کی جائے گی کیوں کہ یہ جگہ وادی کی پوری آبادی کے لئے خصوصی صحت کی خدمات کی خاطر ایک فوکل پوائنٹ کے طور پر کام کرے گی۔ اِسی طرح جموں صوبہ میں میڈیسٹی میران صاحب جموں میں قائم کی جائے گی کیوں کہ یہ زمین مثالی طور پر مرکزی شہر کے قریب واقع ہے اور پورے صوبے کی طبی خدمات کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے۔میڈی سٹیوںمیں میڈیکل کالج اور ہسپتال، سپر سپیشلٹی سینٹر آف ایکسی لینس، نرسنگ، فارماسیوٹیکل،ہاسپٹل مینجمنٹ ، ڈینٹل کالج، آیورویدک کالج، ہسپتال اور میڈیکل ایجوکیشن ہَب، آیوش سینٹروں، رہائشی علاقوں میں تحقیقی مراکز، سٹاف کوارٹراور گیسٹ ہائوس شامل ہوں گے۔جموںوکشمیر حکومت کا ایک بڑا اِقدام صحت شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے صحت سرمایہ کاری پالیسی دستاویز کی تیاری تھاتاکہ جموںوکشمیر میں صحت عامہ شعبے پر بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ جموں وکشمیر کو صحت دیکھ ریکھ اور طبی تعلیمی شعبوں میں 3,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔سرکاری ترجمان نے کہا کہ پالیسی نجی سرمایہ کاروں اور کاروباری اَفراد کو صحت ریکھ ریکھ کی سہولیات قائم کرنے کے لئے مختلف مراعات پیش کرتی ہے جس کا مقصد معیاری صحت خدمات تک لوگوں کی رَسائی کو بہتر بنانا ہے ۔ اِس کا مقصد جموںوکشمیر میں طبی سیاحت کوبھی فروغ دینا ہے۔ اِنتظامی کونسل نے  حالیہ فیصلے میںاِندرا گاندھی گورنمنٹ ڈینٹل کالج جموں کے ایک اِضافی بلاک کی تعمیر کی منظور ی بھی دی ہے جس کی تخمینہ لاگت 44.46کروڑ روپے ہے۔نئے بلاک کی تعمیر سے ہسپتال انتظامیہ، ایمرجنسی سیکشن، آپریشن تھیٹر، وارڈوں، پراستھوڈانٹکس اور ڈینٹل میٹریل ڈیپارٹمنٹ، پیڈوڈونٹکس ڈیپارٹمنٹ، اورل پیتھالوجی، ڈینٹل ہسٹولوجی ڈیپارٹمنٹ اور کمیونٹی سمیت کئی طبی شعبہ جات کے لئے بنیادی ڈھانچہ بنا کر مریضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو پورا کیا جائے گا۔ ڈینٹل شعبہ اس فیصلے کا مقصد عوام کو دانتوں کی معیاری خدمات فراہم کرنا اور ڈینٹل کیئر میں پوسٹ گریجویٹ کورسز متعارف کرنا ہے۔ یہ جدید بنیادوں پر دانتوں کی نگہداشت کی اہم خدمات کی اَپ گریڈیشن میں بھی معاونت کرے گا۔جموں و کشمیر حکومت سٹیٹ ہیلتھ کیئرکی سرمایہ کاری پالیسی 2019 کے تحت زمین، مالی امدادفراہم کرنے کے لئے مدد کی پیشکش کرے گی۔جموں و کشمیر میں صحت بنیادی ڈھانچے کو اَپ گریڈ کرنے کے لئے ان معیاری اِقدامات کے علاوہ کئی صحت کے اداروں نے مختلف سکیموں کے تحت قومی شناخت حاصل کی ہے۔صحت عامہ نظام میں اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کے لئے ہسپتالوں کو نیشنل کوالٹی ایشورینس سٹینڈرڈز( این کیو اے ایس) سر ٹیفکیشن دیا جاتا ہے ۔ ضلع ہسپتال اودھمپور جموںوکشمیر کا پہلا ہسپتال بن گیا جسے این کی اے ایس سرٹیفکیشن دیا گیا۔ گورنمنٹ ہسپتال گاندھی جموں کو بھی این کیو اے ایس سرٹیفکیشن سے نوازا گیا ۔ سی ایچ سی کٹراہ جموںوکشمیر یوٹی میں پہلا سی ایچ سی ہے جسے این کیو اے ایس سر ٹیفکیشن سے نوازا گیا ۔ کشمیر میںشیری جموں و کشمیر میں پرائمری ہیلتھ سینٹر (پی ایچ سی) نے نیشنل کوالٹی ایشورنس سٹینڈرڈ (این کیو اے ایس) سرٹیفیکیشن حاصل کیا جس سے یہ کارنامہ حاصل کرنے والا صوبہ کشمیر میں صحت عامہ کا پہلا ادارہ بن گیا۔اِسی طرح کیالپ سکیم کے تحت جو صحت عامہ کی سہولیات میں صفائی ، حفظان صحت اور انفکیشن کنٹرول کے طریقوں کو فروغ دینے کے لئے شروع کی گئی ہے ۔جموںوکشمیر کے ضلع ہسپتال رِیاسی کوہسپتال کے اَحاطے میں اور اس کے اِرد گرد صفائی اور حفظان صحت کو برقرار رکھنے کے لئے 50لاکھ روپے کا پہلا اَنعام دیا گیا ہے۔جموںوکشمیر حکومت نے حالی ہی میں ’’ کیکالپ 2020-21‘‘ کے تحت ایوارڈوں کا اعلان کیا جو صفائی اور حفظان صحت میں بہترین کارکردگی کے لئے صحت عامہ سہولیات فراہم کرنے کی ایک پہل ہے جس میں ضلع ہسپتال اودھمپور نے ضلع ہسپتالوں کے زُمرے میں پہلا مقام حاصل کرکے انعامی رقم 50لاکھ روپے جیتی ہے جبکہ ضلع ہسپتال ریاسی کو 3لاکھ روپے کا توصیفی ایوارڈ دیا گیا ۔مختصراً، صحت عامہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی جموں و کشمیر میں پبلک ہیلتھ کی تمام خدمات کے لئے ضروری بنیاد ثابت ہو رہی ہے۔ مرکزی حکومت کی مددسے حکومت جموں و کشمیر کی مخلصانہ اور ٹھوس کوششوں کے نتیجے میں یہاںپبلک ہیلتھ کا ایک مضبوط طبی بنیادی ڈھانچہ تیار ہوا ہے۔