پنچایت نرتھیال کا وفد بلاک ڈیولپمنٹ افسر سے ملاقی

بانہال // محکمہ دیہی ترقیات بلاک رام بن کے نرتھیال علاقے کے لوگوں نے علاقے میں دیہی ترقیات کے ایک عارضی ملازم کی طرف سے مکان ، باتھ روم اور تعمیراتی کاموں کی الاٹمنٹ کے نام لاکھوں روپئے کے مبینہ خرد برد کی شکایات کو لیکر بلاک ڈیولپمنٹ رام بن ممتاز مرزا اور اسسٹنٹ  ڈیولپمنٹ کمشنر دیہی ترقیات جہانگیر کھانڈے سے ملاقات کی اور انہیں  دیہی ترقیات کے ایک عارضی ملازم کی طرف سے دیہاتیوں کے ساتھ کی گئی لوٹ کھسوٹ کی روداد بیان کی – بی ڈی او رام بن نے انہیں یقین دلایا کے کی وہ نرتھیال پنچائت کا دورہ کرینگے اور مکمل کئے گئے  تعمیراتی کاموں کی رقم فوری طور  واگزار کی جائے گی تاہم انہوں نے مذکورہ ملازم کی طرف سے مبینہ رشوت خوری کے خلاف لوگوں کو از خود کاروائی کرنے کی تلقین کی۔ دیہی ترقیات کے حکام سے ملے  نرتھیال کے لوگوں کا الزام ھے کہ جی ار ایس کے طور کام کرنے والے ملازم سنسار سنگھ نے مبینہ طور اندرا اواس یوجنا کے تحت مکان کی تعمیر کے نام  ایک اندھے شخص تیرتھ سنگھ اور  BPL کے  زمرے میں شامل ایک غریب محمد اسحاق سے مبینہ طور بیس بیس ہزار روپئے اور چالیس کے قریب دیگر افراد سے سوچھ بھارت ابھیان کے تحت تعمیر کئے جانے والی بیت الخلاوں کے نام فی کس دو ہزار روپئے کی رقم  لینے کے الزامات عائید کئے  ہے جبکہ نرتھیال پنچائت کے ہنگی علاقے میں سنہ 2004  عیسوی میں تعمیر کئے گئے ایک واٹر ٹینک یا حوض اور راستوں وغیرہ کے نام مبینہ طور رقم نکالنے کا بھی الزامات عائید کیا گیا ہے – لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی تعمیراتی کام انجام دیئے ہیں لیکن منںریگا کے تحت رقومات ابھی تک واگذار نہیں کی گئی ہیں – بلاک ڈیولپمنٹ افسر رام بن ممتاز مرزا نے وفد کو  غور سے سننے کے بعد وفد کو یقین دلایا کہ وہ علاقے کا دورہ کرکے تعمیراتی سرگرمیوں کا خود اکر جائزہ کرینگے – انہوں نے لوگوں سے کہا کہ واقعی ان سے زیادتی ہوئی ہے اور انہوں نے ماتحت عملہ کو مکمل کئے گئے کاموں کی رپورٹ تیار کرکے جلد از جلد رقومات واگذار کرنے کے احکامات بھی صادر کئے۔  بی ڈی او رام بن نے جی ار ایس سنسار سنگھ پر لگائے گئے الزامات کے جواب میں وفد کو کہا کہ اس ملازم کو وہاں سے پہلے ہی  ہٹایا گیا ہے اور لی گئی مبینہ رقم کو لوگ قانونی چارہ جوئی کرکے از خود ہی وصول کریں  اور محکمہ اس کیلئے کسی صورت ذمہ دار نہیں ہے – وفد نے اے سی ڈی رام بن سے بھی ملاقات کی لیکن صحت کی ناسازی کی وجہ سے وفد سے تفصیلا  نہ مل سکے –