پنچایتی چنائو کے بعدنمائندوں کو وسیع اختیار دینگے

جموں// وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گاؤں کو ریاست کی ترقی میں کلیدی عنصر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچانے میں دیہی علاقوں کو با اختیار بنایا جانا چاہئے۔ بھلوال بلاک کے باران گاؤں میں جموں صوبے کے 152 پنچایت گھروں کا الیکٹرانکلی افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اُ ن کی ذاتی خواہش ہے کہ پنچائت راج کے تحت دیہات کو حکمرانی کے مکمل یونٹوں کے طور بڑھاوا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ترقی دیہات کی مکمل ترقی کے بغیر ادھوری ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ اُن کی حکومت پنچائتوں کو با اختیار بنانے کا ارادہ رکھتی ہے تا کہ جمہوریت اور ترقیاتی عمل کو بنیادی سطح تک پہنچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پنچائتی انتخابات کے بعد پنچوں اور سرپنچوں کو اس قدر اختیارات دیئے جائیں گے تا کہ وہ دیہی مسائل اور معاملات کو مقامی سطح پر حل کرسکیں اور انہیں یہ مسائل ضلع اور سیکرٹریٹ سطح تک نہ لے جانے پڑیں۔وزیر اعلیٰ نے اُمید ظاہر کی کہ31 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے گئے152 پنچائت گھرگاؤں میں کمیونٹی اثاثے کے طور پر بروئے کار لائے جائیں گے اور اُن کے ذریعے آئی ٹی سہولیات اور دیگر فلاحی پروگرام عام لوگو ں تک پہنچائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنچائت گھروں کو کمپوٹر تعلیم اور آئی ٹی سے جڑی دیگر خدمات کی دستیابی کے لئے بھی استعمال میں لایا جانا چاہئے۔اسے سے پہلے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حکومت نے ریاست کے تمام خطوں کو ترقیاتی عمل کے ذریعے متحد رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جموں وکشمیر کو ترقی اور خوشحالی کی نئی ڈگر پر لے جانے کے لئے پُر عزم ہیں۔دیہی ترقی کے وزیر عبدالحق خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی کی قیادت والی موجودہ سرکار نے ریاست کی مجموعی صورتحال میں نمایاں بہتری لانے کے لئے بڑا ترقیاتی منصوبہ ترتیب دیا ہے۔صحت اور طبی تعلیم کے وزیر بالی بھگت نے بھی اس موقعہ پر خطاب کیا۔ کسان بورڈ کے نائب چیئرمین دلجیت سنگھ چِب اور صوبائی انتظامیہ کے کئی اعلیٰ افسران کے علاوہ کافی تعداد میں لوگ بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔