پنچایتی و بلدیاتی چناؤ لا حاصل عمل

سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت نے مجوزہ میونسپل اور پنچایتی انتخابات کو ایک لاحاصل عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی الیکشن کا بائیکاٹ کرنا آخری آپشن ہے۔سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے حیدر پورہ ،میں ایک غیر معمولی اجلاس میںبھارت کی کسی بھی الیکشن عمل کا مکمل بائیکاٹ کرنے کو آخری اوپشن قرار دیتے ہوئے عوام سے الیکشن بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوے کہا کہ پوری قوم کو پوری سنجیدگی کے ساتھ اب اس تاریخی فیصلے پر اپنی مہر تصدیق ثبت کر لینی چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے آبرومندانہ حل تک کسی بھی طرح کی الیکشن عمل سے اجتناب کرنا مقدم ہے۔اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تازہ ترین سیاسی صورت حال کا بغور جائیزہ لیتے ہوئے کہا کہ عالمی امن کے ساتھ ساتھ جنوب ایشیائی خطے کی نازک ترین صورت حال کا تقاضا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی تناظر میں حل کیا جائے۔ اجلاس میں محسوس کیا گیا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کی ہیت اور صورت بگاڑنے کے لیے منصوبہ بند سازشوں کا ایک لا حاصل جال بُننے  میںاپنے اوقات ،سرمایہ اور فوجی طاقت ضائع کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے ۔مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ ریاست کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون اور مسلم اکثریتی کردار کو زک پہنچانے میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سمیت سبھی الیکشن لڑنے والی ہند نواز جماعتیں برابر کی شریک ہیں اور یہی جماعتیں بھارت کی قابض افواج اور ارباب اقتدار کی طرف سے کشمیری عوام کے خلاف عملائی جارہی ظلم و جبر اور قتل و غارت گری کی کارروائیوں کے لئے ذمہ دار ہیں ۔ مزاحمتی قیادت نے قوم کو 2010میں نیشنل کانفرس کی طرف سے 125 نہتے لوگوں اور معصوم طلباء کو بے دردی کے ساتھ قتل کرنے اور 2016میں پی ڈی پی کی حکومت نے ٹافی اور دودھ لینے والے معصوموں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی دوڑ میں ایک دوسرے کی طعنہ زنی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ان حکمرانوں نے مظلوم کشمیری قوم کی اجتماعی عزت کے علاوہ یہاں کے سبزہ زاروں کو نیلام کرتے ہوئے اب یہاں کے بچے کھچے مسلم اکثریتی کردار کو بیچ کھانے کی قسم کھا رکھی ہے ۔