پنچایتی نمائندوں پر حملے جاری| پٹن میں سرپنچ ہلاک

فیاض بخاری
بارہمولہ //شمالی ضلع بارہمولہ کے گوشہ بگ پٹن گائوںمیں جمعہ کی شام مشتبہ ملی ٹینٹوں نے ایک سرپنچ کو گولی مار کر ہلاک کردیا ۔پولیس نے بتایا کہ مشتبہ ملی ٹینٹوں نے نمازمغرب کے بعد گوشہ بگ پٹن میں سرپنچ منظور احمد بنگرو ولد مرحوم محمد صادق ساکن نجار محلہ گوشہ بگ کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔پولیس نے بتایا کہ علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن شروع کیا گیا ۔ تاہم بظاہر حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔پولیس نے بتایا کہ مقامی سرپنچ (آزاد ممبر ) پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں اُس کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی ۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ منظور احمد دوپہر بعد گھر سے نکلا تھا اور شام تک واپس نہیں آیا جس کے بعد اسکے اہل خانہ نے اسکی تلاش شروع کی۔اس دوران کچھ لوگوں نے منظور کی گولیوں سے چھلنی لاش اسکے ہی میوہ باغ میں پائی ، جسکے بعد گائوں میں کہرام مچ گیا اور فوری طور پر پولیس کو مطلع کیا گیا جنہوں نے لاش اپنی یحویل میں لی۔منظور کی عمر 50برس کے قریب تھی۔اسکے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اپریل کے مہینے میں یہ کسی بھی بلدیاتی نمائندے کی پہلی ہلاکت ہے اور مجموعی طور پر پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران چوتھی ہلاکت کا واقعہ ہے۔ اس سے قبل مارچ میں کولگام ضلع میں 2اور سرینگر ضلع میں ایک سر پنچ کی ہلاکتیں ہوئیں جبکہ ایک سر پنچ قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گیا۔ کولگام میں 2مارچ کو کولہ پورہ نامی گائوں میں ڈپٹی سرپنچ محمد یعقوب ڈار ولد غلام محمد ساکن سرندوکولگام کو شام دیر گئے نزدیک سے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔جبکہ9مارچ کوسرینگر کے مضافاتی علاقے کھنموہ میں مشتبہ جنگجو ئوں نے پی ڈی پی سے وابستہ سرپنچ سمیر احمد بٹ ولد عبدالرشید پر اپنے گھر کے نزدیک گولیاں چلائی جس کے نتیجے میں وہ شدید طورپر زخمی ہو گیا اور صدر ہسپتال لیجاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔12مارچ کو مشتبہ ملی ٹینٹوں نے کولگام سے قریب 9کلو میٹر دور اوڈورہ نیلو نامی گائوں میں سر پنچ کو نزدیک سے گولیاں چلاکر ہلاک کردیا۔ سر پنچ شبیر احمد میر ولد مرحوم محمد عبداللہ میر گھر کے باہر کھڑا تھا، جس وقت اس پر حملہ کیا گیا۔ شبیر پہلے سی پی آئی ایم کیساتھ وابستہ تھا اور اس نے پمبئی بلاک کیلئے ڈی ڈی سی الیکشن بھی لڑا تھا۔ اسکی اہلیہ بھی پنچ ہے۔13مارچ کو آری ہل پلوامہ میں محکمہ آر اینڈ بی افسران اور سرپنچ کے ذریعہ کئے جارہے تعمیراتی کام کا معائنہ کیا جا رہا تھا۔اس دوران ایک پستول بردار شخص نمودار ہوا جس نے سرپنچ غلام نبی کمارولد غلام محمدپر پستول فائر کیا ،جسکا نشانہ خطا ہوا اور سرپنچ بال بال بچ گیا۔